کراچی : ماہر معیشت ڈاکٹر فرخ سلیم نے کہا ہے کہ ملک بھر میں بجلی کی کوئی قلت نہیں اگر کمی ہے تو یہ کہ فیصلہ سازی کا شدید فقدان ہے۔
حکومت کی معاشی پالیسیوں، خصوصاً توانائی کے شعبے میں مسلسل نقصانات اور بدانتظامی پر مختلف حلقوں میں سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام دی رپورٹرز میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فرخ سلیم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بجلی کا موجودہ بحران توانائی کے شعبے کی ناقص منصوبہ بندی یا بجلی کی قلت نہیں بلکہ اس کی وجہ معاشی پالیسیوں کی ناکامی اور فیصلہ سازی کا فقدان ہے۔
ملک میں نصب شدہ پیداواری صلاحیت 40 ہزار میگا واٹ سے زائد ہے جبکہ پیک ڈیمانڈ 30 ہزار میگا واٹ سے کم رہتی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فرخ سلیم کا کہنا تھا کہ حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں گزشتہ 25 سال سے بجلی گیس کی دکانیں کھلی ہوئی ہیں اور اس میں پی آئی اے بھی شامل ہے۔ ان شعبوں میں مسلسل نقصان ہورہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 25 سال سے معاشی پالیسیاں بھی تبدیل نہیں ہوپا رہیں، صرف سیاسی چہرے اور نعرے بدلتے رہتے ہیں، جس کے نتیجے میں بجلی، گیس اور قومی اداروں کو ہزاروں ارب روپے خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ڈاکٹر فرخ سلیم نے اس بحران کی بڑی وجہ ناقص پالیسیوں اور بدانتظامی کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہونے کے باوجود اس سے مؤثر طریقے سے استفادہ نہیں لیا جا رہا۔
کئی بڑے پاور پلانٹس، جن میں ساہیوال اور پورٹ قاسم کے کوئلے سے چلنے والے منصوبے شامل ہیں، مکمل یا جزوی طور پر بند پڑے ہیں، جس سے ہزاروں میگا واٹ بجلی ضائع ہو رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں میں جاری کاروباری سرگرمیاں مسلسل نقصان کا باعث بن رہی ہیں، جس پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر حکومت ان اداروں کو کیوں چلا رہی ہے اور ان میں اس کا کیا مفاد ہے؟۔
دوسری جانب حکومت کی جانب سے کاروباری اوقات کار محدود کرنے جیسے اقدامات، مثلاً رات 8 بجے مارکیٹیں اور 10 بجے ریسٹورنٹس بند کرنے کی ہدایات کو بھی ناکافی قرار دیا جا رہا ہے تاہم ایسے اقدامات سے معیشت مزید سست ہو سکتی ہے اور مسائل بھی جوں کے توں رہیں گے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی توانائی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے حکومت نے ملک بھر میں روزانہ بجلی کی محدود بندش کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت شام کے اوقات میں تقریباً 2 سے ڈھائی گھنٹے بجلی کی فراہمی معطل کی جائے گی۔



