spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

باپ کے ہاتھوں نہر میں پھینکی جانے والی لڑکی اچانک دو ماہ بعد زندہ کیسے آگئی؟

فیروزپور : بھارتی پنجاب کے ضلع فیروزپور میں دو ماہ قبل دل دہلا دینے والا واقعہ ایک نئے موڑ کے ساتھ سامنے آیا ہے، نہر میں پھینکی جانے والی لڑکی دو ماہ بعد زندہ آگئی۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق باپ کے ہاتھوں نہر میں پھینکی جانے والی 17 سالہ لڑکی زندہ گھر واپس آگئی اور اس نے پولیس اور عدالت کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرادیا ہے۔

واقعے کے مطابق ملزم باپ نے 17سالہ بیٹی کے مبینہ ناجائز تعلقات کے شبے میں اسے دھوکے سے نہر کے کنارے لے جا کر ہاتھ باندھے اور نہر میں دھکیل دیا۔

ملزم نے خود اس ہولناک واقعے کی ویڈیو بھی بنائی تھی، واقعہ منظرعام پر آنے کے بعد پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا تھا جو تاحال جیل میں ہے۔

لڑکی نے عدالت میں بیان دیا کہ میرے والد نے میرے ہاتھ باندھ کر مجھے نہر میں پھینک دیا تھا، مگر جیسے ہی میں پانی میں گری خوش قسمتی سے میرے ہاتھ خود بخود کھل گئے تھے اور میں بہتی ہوئی نہر کے کنارے موجود لوہے کی گرل سے جا ٹکرائی اور کئی گھنٹے تک اسے پکڑے رکھا پھر بڑی مشکل سے نہر سےباہر نکلی۔

لڑکی نے مزید بتایا کہ نہر سے نکلنے کے بعد وہ ایک راہگیر سے لفٹ لے کر اپنی خالہ کے گھر چلی گئی۔ دو ماہ تک وہ منظرِ عام سے غائب رہی اور اب دوبارہ سامنے آکر پورا واقعہ بیان کردیا ہے۔

لڑکی نے عدالت میں اپنے والد کی جیل سے رہائی کی درخواست بھی کی لیکن واضح طور پر کہا کہ اب وہ والدین کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔ اس نے مزید کہا کہ میں اپنی خالہ کے گھر رہنا چاہتی ہوں، مجھے وہیں رہنے کی اجازت دی جائے۔”

مقامی پولیس کے مطابق لڑکی کو قتل کرنے کی نیت سے نہر میں پھینکا گیا تھا مگر کچھ فاصلے پر پہنچ کر اسے معجزانہ طور پر بچا لیا گیا۔

دوسری جانب ملزم باپ نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ اس کی بیٹی کے خاندان سے باہر ایک شخص کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے اور اس نے گھر والوں کو ڈرانے کے لیے کھانے میں زہر بھی ملانے کی کوشش کی تھی۔

اس کا کہنا تھا کہ ہم نے کئی بار سمجھایا مگر وہ باز نہ آئی، اسی لیے میں اسے نہر پر لے گیا اور ہاتھ باندھ کر پانی میں دھکیل دیا تھا۔

معاملے کی حساس نوعیت کے باعث کیس کی مزید قانونی کارروائی جاری ہے اور عدالت لڑکی کی خواہش کے مطابق اسے محفوظ مقام پر رکھنے سے متعلق فیصلہ کرے گی۔

spot_imgspot_img