کراچی : پاکستان میں واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک ہوجانے اور اس کے ذریعے دھوکہ دہی اور بلییک میلنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ ہیکنگ کے واقعات میں حالیہ عرصے کے دوران تیزی آئی ہے۔ لہٰذا سائبر سیکیورٹی ماہرین نے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ تصدیقی کوڈز (او ٹی پی) شیئر کرنے میں انتہائی احتیاط سے کام لیں۔
سوشل میڈیا اور موبائل صارفین کو نشانہ بنانے والے ہیکرز نامعلوم نمبروں سے کالز کرکے شہریوں کا واٹس ایپ ہیک کررہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ہیکرز خود کو کوریئر کمپنی کا نمائندہ ظاہر کرتے ہیں اور متاثرہ شخص کو یہ باور کراتے ہیں کہ اس کے نام ایک پارسل آیا ہے، جس کی ڈلیوری کے لیے موبائل پر موصول ہونے والا کوڈ درکار ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے ہی صارف دھوکے میں آ کر یہ ون ٹائم پاس ورڈ (او ٹی پی) شیئر کرتا ہے، اس کا واٹس ایپ اکاؤنٹ فوری طور پر ہیکر کے کنٹرول میں چلا جاتا ہے۔
اس کے بعد ہیکرز متاثرہ شخص کے تمام نمبرز کو پیغامات بھیج کر ایمرجنسی کا بہانہ بناتے ہوئے رقم طلب کرتے ہیں، جس سے متعدد افراد مالی نقصان کا شکار ہو رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق بزرگ افراد اور گھریلو خواتین اس فراڈ کا زیادہ شکار بن رہی ہیں، کیونکہ وہ تکنیکی معاملات سے کم آگاہ ہوتی ہیں۔
ایک متاثرہ شہری نے بتایا کہ اس کے واٹس ایپ سے ہزاروں جاننے والوں کو پیغامات بھیجے گئے اور درجنوں افراد نے اس کے نام پر رقم بھی منتقل کر دی۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی نامعلوم کالر کے ساتھ او ٹی پی یا ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ عوام میں آگاہی پیدا کرنا اس قسم کے جرائم کی روک تھام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔



