کراچی (30 اکتوبر 2025): ایڈز کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ اتائی ڈاکٹرز ہیں سندھ بھر میں 6 لاکھ سے زائد اتائی ڈاکٹر انسانی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔
پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں اصل کے ساتھ نقل بھی ہر شعبہ میں موجود ہے اور صحت کا شعبہ اس سے مبرا نہیں۔ یہاں جہاں آپ کو چوٹی کے اسپیشلسٹ ڈاکٹرز ملیں گے، وہیں آپ کو اتائی ڈاکٹر کی بھی بہتات ملے گی۔ اتائی ڈاکٹروں کے پنپنے کی ایک بڑی وجہ کم علمی بھی ہے۔
وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو کو بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ سندھ میں 6 لاکھ سے زائد اتائی ڈاکٹر ہیں، جن میں سے 40 فیصد کراچی میں ہیں۔
ترجمان محکمہ صحت سندھ کے مطابق وزیرصحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو کی زیر صدارت ایچ آئی وی کے بڑھتے کیسز اور روک تھام سے متعلق اجلاس ہوا۔ اجلاس میں صوبے بھر کے ڈپٹی کمشنرز اور ایس ایس پیز نے آن لائن شرکت کی۔
اجلاس میں وزیرصحت کو صوبے بھر میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز پر بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ سندھ میں 6 لاکھ سے زائد اتائی ڈاکٹرز ہیں۔ ان میں سے 40 فیصد صرف کراچی میں ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ 3995 بچوں کے رجسٹرڈ کیسز ہیں جن میں سے لاڑکانہ میں 1144، شکارپور میں 509، شہید بےنظیرآباد میں 256، میرپورخاص میں 228 اور دیگر اضلاع میں درجنوں کیسز موجود ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایچ آئی وی (ایڈز) کی وجوہات اتائی ڈاکٹر،غیرقانونی کلینک، غیر رجسٹرڈ بلڈ بینکس ہیں۔ اس کے علاوہ حجاموں کے استعمال شدہ بلیڈز، سرنجزکی ری پیکنگ، اسپتالوں کے ویسٹیج کی فروخت بھی بڑی وجہ ہے۔
وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو کا کہنا تھا کہ عوام کی جان سے کھیلنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس حوالے سے سندھ حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی ہے اور اس معاملے پر کوئی سفارش نہیں چلے گی
ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن، پولیس اور ڈی سیز کو اتائی ڈاکٹروں کے خلاف کریک ڈاؤن کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے اگر کسی ایم این اے یا ایم پی اے کی سفارش آئے تو مجھے بتائیں، میں خود نمٹ لوں گی۔
انہوں نے واضح کہا کہ سندھ ہیلتھ کیئر جن مراکز کو سیل کرے، انہیں دوبارہ کھولنے والوں کو گرفتار کیا جائے۔ غیر رجسٹرڈ بلڈ بینکس کو فوری بند کر کے لائسنس یافتہ مراکز کی لسٹ فراہم کی جائے۔



