غزہ :مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مزید دو فلسطینی شہید ہوگئے، غزہ میں گھروں کی تباہی کا سلسلہ جاری ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے الجزیرہ کی رپورٹ قابض مغربی کنارے میں دو فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج نے شہید کر دیا ہے، فوج کا دعویٰ ہے کہ یہ افراد کار چڑھانے اور چاقو سے حملے میں ملوث تھے۔
اسرائیلی فوج منظم طریقے سے غزہ شہر کے مشرقی علاقوں میں نام نہاد “یلو لائن” کے پیچھے واقع رہائشی عمارتوں کو مسمار اور تباہ کر رہی ہیں۔
ایک اسرائیلی ڈرون نے وسطی خان یونس میں فوٹو جرنلسٹ محمود وادی کو بھی شہید کر دیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں تین اسپتالوں کے آس پاس کے علاقوں پر بھی دھاوا بول دیا ہے۔
فلسطینی وزارت صحت نے بتایا کہ شمال مغرب رام اللہ میں اسرائیلی فائرنگ سے شدید زخمی ہونے والا ایک فلسطینی نوجوان دم توڑ گیا۔
وزارت صحت کے مطابق محمد رسلان محمود اسمر کا تعلق بلدہ بیت ریما سے ہے، اسے قریہ ام صفا کے قریب اسرائیلی فائرنگ سے شدید زخمی ہونے کے بعد اسے فوری طور پر اسپتال منتقل نہ کیا جا سکا جس کے بعد وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
فلسطینی سرکاری خبر رساں ایجنسی وفا نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ نوجوان کو ام صفا کے قریب گولیاں لگیں لیکن زخمی حالت میں اسے طبی امداد نہ مل سکی کیونکہ قابض فورسز نے فلسطینی ہلال احمر کے عملے کو آگے نہیں جانے دیا اور اسے خون میں لت پت چھوڑ دیا جس سے وہ موقع پر ہی جان سے چلا گیا۔ اسرائیلی فورسز نے اس کی لاش بھی اپنے قبضے میں لے لی۔
واضح رہے کہ غزہ پر اسرائیلی فوج کی نسل کش جنگ کے نتیجے میں اکتوبر 2023 سے اب تک کم از کم 70 ہزار 100فلسطینی شہید اور 1 لاکھ 70 ہزار 965 زخمی ہو چکے ہیں۔
7اکتوبر 2023 کے حملوں میں اسرائیل میں 1ہزار139 افراد مارے گئے تھے جبکہ تقریباً 200 افراد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔



