مظفرآباد : آزاد کشمیر میں احتجاج کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی وزرا کے درمیان معاہدہ طے پا گیا۔
مظفرآباد میں وفاقی وزرا اور عوامی ایکشن کمیٹی کے ارکان نے مشترکہ پریس کانفرنس میں معاہدے سے متعلق تفصیلات بیان کیں۔
اس موقع پر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ الحمدللہ! جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا ہے، پاکستان، آزاد جموں وکشمیر اور جمہوریت کی فتح ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام ہمیشہ پاکستان کے قومی مؤقف کے فرنٹ لائن پر کھڑے رہے ہیں،ان کی آواز بے پناہ اہمیت کی حامل ہے، گزشتہ چند ہفتوں میں عوامی مسائل کے باعث ایک مشکل صورتحال سامنے آئی۔
Alhamdulillah!
Agreement signed with Joint Action Committee. Pakistan, AJK & Democracy wins.
The people of Azad Jammu & Kashmir have always stood at the frontlines of Pakistan’s national cause, and their voice carries immense weight. Over the past weeks, we saw a difficult… pic.twitter.com/DMGdVDbr0s— Ahsan Iqbal (@betterpakistan) October 3, 2025
وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام جائز مطالبات منظور کرلیے گئے ہیں، وفاقی وزرا کمیٹی کی طرف سے عوام ایکشن کمیٹی کا شکریہ ادا کرتا ہوں، دونوں جانب سے قیمتی جانوں کے ضیاع پر بہت افسوس ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کے مطابق لیگل ایکشن کمیٹی ہر15دن بعد بیٹھے گی، یہ معاملہ خوش اسلوبی سےطے پا گیا ہے۔
راجہ پرویزاشرف نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو کی ہدایت تھی کہ معاملے کو خوش اسلوبی سے طے کیا جائے، کچھ لوگ امید لگائے بیٹھے تھے کہ معاملے کو بگاڑا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کے تمام ترمنصوبے ناکام ہوئے، اللہ کاشکر ہے کہ ہماری گفتگو مثبت رہی، ہماری کوشش ہے کہ خطے میں امن اور بھائی چارے کا سلسلہ قائم رہے۔
وفاقی وزیر امور کشمیر امیر مقام نے کہا کہ اللہ کا شکر ادا کرتاہوں کہ معاملہ خوش اسلوبی سے طے پا گیا، جانی نقصان پر بہت افسوس ہے۔ کشمیری عوام کی فلاح وبہبود ہماری اوّلین ترجیح ہے۔
اس موقع پر عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے مشکور ہیں، ہمارےمعاملات خوش اسلوبی سے طے پا گئے ہیں۔
مزید پڑھیں : وزیر اعظم کا آزاد کشمیر کی صورتحال کا سخت نوٹس
انہوں نے کہا کہ یہ خالصتاً ہمارا اندرونی معاملہ تھا کسی دوسرے ملک کو مداخلت کی اجازت نہیں دے سکتے، ریاست اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان معاملات طے پاگئے ہیں۔



