آل پاکستان ورکرز الائنس یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن نے کہا ہے کہ یوٹیلٹی اسٹورز کے ملازمین تاحال حکومتی سرویرنس پیکیج سے محروم ہیں۔
اعلامیہ کے مطابق رمضان میں بے روزگار ملازمین مالی بحران کا شکار ہیں اور بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی مشکل ہے جب کہ مالی پیکیج نہ ملنے سے45 سے زائد ملازمین انتقال کر چکے ہیں۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ یوٹیلٹی اسٹورز بند ہیں مگر کرپشن میں ملوث افسران کے خلاف کارروائی نہ ہو سکی، یوٹیلٹی اسٹورز ملازمین کو فاقوں پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
آل پاکستان ورکرز الائنس نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر سرویرنس پیکیج ادا کرے اگر مطالبات منظور نہ ہوئے تو ملک گیر احتجاج کیا جائے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر یوٹیلٹی اسٹورز ملازمین کے لیے خصوصی پیکج کی منظوری دے دی گئی۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر نے یوٹیلیٹی اسٹورز ملازمین سے ملاقات کی جس میں یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن اور نیشنل ورکرز یونین کے درمیان باضابطہ معاہدہ طے پا گیا۔
ہارون اختر کا کہنا ہے کہ معاہدے کے تحت متاثرہ ملازمین کو سیورنس اور کمپنسیٹری پیکج دیا جا رہا ہے، معاہدے کے بعد ملازمین میں چیکس کی تقسیم کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت مالی تعاون فراہم کرے گی تاکہ ملازمین کو ادائیگیاں یقینی بن سکیں اس سلسلے میں اہل ملازمین کو مرحلہ وار 40فیصد، پھر30 اور 30 فیصد ادائیگیاں کی جائیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کے ویژن کے مطابق ورکرز کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا رہا ہے وزیر اعظم شہباز شریف کی اولین ترجیح متاثرہ خاندانوں کو مالی تحفظ فراہم کرنا ہے۔



