spot_img

ذات صلة

جمع

امریکی فوج نے ایران پر حملے شروع کردیے

واشنگٹن (10 جون 2026) : آبنائے ہرمز کے قریب...

پاپا رازی کی کیا حقیقت ہے؟ حیران کن کہانی سامنے آگئی

پاپا رازی (Paparazzi)کسی ایک شخص کو نہیں بلکہ ان...

بے رحم شخص کا اونٹنی پر تشدد، دونوں آنکھیں نکال لیں

تھرپارکر : اندرون سندھ کے شہر تھرپارکر میں اونٹنی...

جھانوی کپور نے ’پیڈی‘ کے لیے کتنا معاوضہ لیا؟

بالی ووڈ اداکارہ جھانوی کپور کی فلم ’پیڈی‘ میں...

کینسر کی تشخیص کب اور کیسے ہوسکتی ہے؟ علاج آسان ہوگیا

کینسر غیرمعمولی خلیوں کی نشوونما کی ایک خطرناک بیماری ہے، عام طور پر اس کی تشخیص اس وقت ہوپاتی ہے جب مریض آخری یا سیکنڈ لاسٹ اسٹیج پر ہوتا ہے۔

کینسر کے مرض میں سیل کی نشوونما کو کنٹرول کرنے والے سگنل ٹھیک سے کام نہیں کرتے۔ یعنی دوسرے لفظوں میں کینسر کے خلیے صحت مند خلیات کے اصولوں پر عمل نہیں کرتے۔

اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں معروف آنکو لوجسٹ ڈاکٹر اصغر حسین نے کینسر کی علامات اور اس کی بروقت تشخیص سے متعلق ناظرین کو اہم معلومات سے آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ کئی بار کیونکہ ہم ڈاکٹر کو خاطر خواہ اہمیت نہیں دیتے، اس لیے ہم کچھ بنیادی علامات کو نظر انداز کردیتے ہیں جو جلد تشخیص کے لیے بہت ضروری ہوسکتی ہیں۔

ڈاکٹر اصغر حسین نے بتایا کہ کینسر کی جتنی بھی اقسام ہیں وہ تمام چار اسٹیجز پر مشتمل ہے، پہلے اور دوسرے اسٹیج کی نسبت تیسرے مرحلے میں مریض کو سنبھالنا اور علاج کرنا کافی دشوارہوتا ہے۔ اور مریض کو ان تمام تکلیف دہ مراحل سے گزرنا پڑے گا۔

پاکستان میں کینسر کے علاج سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر بریسٹ کینسر یا مردوں میں مثانے کا کینسر کے علاج میں ہمارے ہاں بہت جدت آئی ہے، یہاں تک کہ بعض مریضوں کو کیمو بھی نہیں لگوانی پڑتی۔

spot_imgspot_img