کبوتر ناقابل یقین حد تک بہترین نیویگیٹر ہیں اور کبھی راستہ نہیں بھولتے، زمین کے مقناطیسی میدان کو استعمال کرتے ہوئے یہ ہزاروں کلومیٹر دور سے اپنا گھر تلاش کر سکتے ہیں۔
کبوتر وہ حیرت انگیز پرندہ ہے جو سینکڑوں کلومیٹر دور لے جا کر چھوڑا جائے، تب بھی کسی نہ کسی طرح بالکل اپنی منزل پر واپس پہنچ جاتا ہے۔
اسی غیر معمولی صلاحیت کی وجہ سے زمانہ قدیم میں کبوتروں کو پیغام رسانی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کبوتر راستہ آخر ڈھونڈتا کیسے ہے؟
اس بات کا جواب سائنسی تحقیق سے ڈھونڈا گیا تو معلوم ہوا کہ اس راز کو جاننے کے لیے سائنسدانوں نے کبوتروں کے دماغ کا تفصیلی جائزہ لیا اور قدرت کے اس عظیم شاہکار کے بارے میں جانا۔
مذکورہ تحقیق میں زمین کے مقناطیسی میدان جیسا ایک مصنوعی فیلڈ بنایا گیا اور کبوتروں کو اس میں چھوڑدیا گیا۔ جس کا نتیجہ حیران کن تھا۔
کبوتر کے دماغ کے وہ حصے جو راستہ تلاش کرنے کے ذمہ دار ہیں، وہ اندرونی کان سے جڑے ہوتے ہیں۔
ان کانوں میں موجود انتہائی باریک ننھے بال زمین کے مقناطیسی میدان کی لہروں سے متحرک ہوتے ہیں، جس سے سگنلز پیدا ہوتے ہیں۔
یہی سگنلز کبوتر کو بتاتے ہیں کہ کس سمت جانا ہے اور منزل کہاں ہے۔ جی ہاں !! بالکل اسی اصول پر آج وائرلیس فون چارجر بنائے گئے ہیں۔ جہاں مقناطیسی فیلڈ میں تبدیلی سے برقی لہریں پیدا ہوتی ہیں جو موبائل کو چارج کرتی ہیں۔



