اسلام آباد : سینئر سیاستدان اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کیلئے ہم 2015میں حتمی مرحلے پر پہنچ چکے تھے۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام خبر میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے محمد زبیر نے بتایا کہ میاں نواز شریف نے1990میں پرائیوٹائزیشن شروع کی تھی، وہ ہمیشہ سے اس کے حق میں رہے انہوں نے ہی مجھے پرائیوٹائزیشن کا چیئرمین بنایا تھا۔
نوازشریف نے کہا تھا کہ پی آئی اے اور اسٹیل مل جیسے ہاتھیوں کو پرائیوٹائزکرنا ہے، پی آئی اے کی نجکاری کیلئے ہم نے بہترین فنانشل ایڈوائزر لگائے تھے۔
ایک سوال کے جواب میں محمد زبیر نے کہا کہ سال 2015میں ہم نے نجکاری کیلئے پی آئی اے، اسٹیل کو آگے رکھا باقی 35ادارے الگ تھے، اس وقت پی آئی اے کی نجکاری کیلئے ہم حتمی مرحلے پر پہنچ چکے تھے۔
سابق گورنر نے بتایا کہ 2015میں اپوزیشن بہت شور مچاتی تھی، پی ٹی آئی اور پی پی اس کی نجکاری کے شدید مخالف تھے، آخری میٹنگ کے وقت اپوزیشن ارکان نے کہا تھا کہ ہم آپ کو سپورٹ نہیں کرینگے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اراکین کے مؤقف پر اسحاق ڈار نے کہا تھا آپ نہیں چاہتے تو ہم بھی نجکاری نہیں کرتے، میٹنگ کے بعد باہر نکلے تو اسحاق ڈار نے مجھ سے کہا ان سے سیاسی فائدے لوں گا۔ پی آئی اے کی نجکاری آخری اسٹیج پر تھی اسحاق ڈار نے کہا کہ اب اسے اگلے ٹرم میں دیکھیں گے۔
محمد زبیر نے بتایا کہ سال2015کے بعد پی آئی اے کو جو نقصانات ہوئے اس پر کسی کو تو ذمہ دار ٹھہرانا چاہیے۔ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ یہ نجکاری اچھا قدم ہے اس سے بہت سے فائدے ہونگے، ہر سال جو ٹیکہ لگتا تھا اس کے نتیجے میں یہ اچھی چیز ہوئی ہے،بہت سی چیزوں میں خلاباقی ہیں جنہیں پُر کرنا ہے۔
نجکاری سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر آج افتخار چوہدری جج ہوتے تو اب تک نجکاری روک چکے ہوتے،2015میں بھی پی آئی اے کے آپریشنز کے اثاثوں کی نجکاری ہونا تھی جو نہ ہوسکی۔
محمد زبیر نے کہا کہ پی آئی اے کی بہتری کیلئے ٹاپ گروپ عارف حبیب جیسا کوئی ہو ہی نہیں سکتا تھا، نجکاری میں حکومت نے بہت زیادہ مٹھاس ڈالی ہے۔
سابق گورنر نے مزید کہا کہ ملک کے دیگر اداروں کی نجکاری میں بھی بولی لگانے والے بھی یہی توقع اور مطالبہ کریں گے کہ جو سہولیات اس وقت دی گئی تھیں اب بھی وہی دی جائیں۔



