spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

پیسے پورے دو ورنہ ۔ ۔ ۔ ۔ !! کے ایم سی کے رشوت خور افسران رنگے ہاتھوں کیسے پکڑے گئے؟ ویڈیو نے بھانڈا پھوڑ دیا

کراچی : شہر قائد میں عوام کی نام نہاد خدمت پر مامور افسران و اہلکار جس طرح مبینہ طور پر رشوت کے عوض خدمت کا فریضہ انجام دیتے ہیں اس سے پوری قوم واقف ہے، اس کی چھوٹی سی مثال کے ایم سی کا محکمہ ہے۔

اس سلسلے میں اے آر وائی نیوز کے پروگرام سرعام کی ٹیم نے اپنی ایک کارروائی میں سرکاری دفاتر میں براجمان ایسے ناسوروں کو بے نقاب کیا جن کے جرائم سے پورا نظام گند آلود ہوچکا ہے۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کراچی میں محکمہ کے ایم سی کے زیادہ تر افسر سے لے کر نچلے گریڈ کے ملازم تک کی گردن کرپشن کی دلدل میں دھنسی ہوئی ہے اور مزید یہ کہ وہ اس رشوت خوری کو کوئی جرم تو کیا معمولی گناہ بھی تصور نہیں کرتے۔

کراچی میں لگنے والے درجنوں سستے بازاروں میں دکانداروں سے بھاری رقمیں بطور نذرانہ وصول کی جاتی ہیں جس کا خمیازہ عام شہریوں کو زائد قیمت کی ادائیگی لہ صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔

سرعام کی اس کارروائی میں انکشاف ہوا کہ دکانداروں سے بھتہ خوروں کی طرح ہفتہ اور منتھلی بھی وصول کی جاتی ہے جس کا حصہ کے ایم سی اعلیٰ افسران کے مطابق میئر کراچی تک بھی پہنچایا جاتا ہے۔

ٹیم سرعام کی اس کارروائی میں کے ایم سی کا ڈائریکٹر کمال الدین ہفتہ بازار لگانے کے عوض مقررہ چالان کے علاوہ فی بازار 35 ہزار روپے رشوت کا تقاضہ کررہا ہے، اور اس کا اسسٹنٹ انسپکٹر ظفر بھتہ وصولی کی ڈیوٹی پر مامور ہے، یہی نہیں اگر یو سی چیئرمین بھی اپنے علاقے میں بازار لگوائے گا تو اسے بھی رشوت لازمی دینا ہوگی چاہے وہ کسی بڑی شخصیت سے فون بھی کروالے۔

ٹیم سرعام کے ایم سی کے دفتر پر چھاپہ مار کر اسسٹنٹ ڈائریکٹر صابر اور انسپکٹر ظفر سے پوچھ گچھ کی جس پر کافی تلخ کلامی اور دھونس دھمکی بھی دی گئی۔ لیکم وڈیو ثبوت دیکھنے کے بعد ان کے پاس انکار کی گنجائش موجود نہیں رہی اور اپنے جرم کا اعتراف کرلیا۔

بعد ازاں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب سے ملاقات کرکے اس ساری صورتحال سے آگاہ کیا گیا جس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے انہوں نے مذکورہ دونوں افسران ظفر اور صابر کو ملازمت سے برطرف کردیا جبکہ سابق ڈائریکٹر کمال الدین کو پہلے ہی رشوت خوری الزام میں معطل کیا جاچکا ہے۔

spot_imgspot_img