spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

پہلے سکھائیں پھر نیا قانون لائیں، ای چالان پر کراچی والے پھٹ پڑے

شہر میں اچانک ای چالان کا آغاز کرنے پر کراچی والے پھٹ پڑے، شہریوں نے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا پہلے سکھائیں پھر نیا قانون لائیں۔

اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے شہرقائد کے باسیوں نے اس نئے سسٹم کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا، شہریوں کا دل کی بھڑاس نکالتے ہوئے کہنا تھا کہ کراچی میں ای چالان لانے سے پہلے نہ کہیں بورڈز لگائے گئے نہ ہی کوئی آگاہی فراہم کی گئی، انتظامیہ پہلے سڑکیں بناتی پھر ای چالان کرتی، شہریوں کی تربیت نہ کی گئی تو یہ سسٹم کامیاب نہیں ہوگا۔

موٹرسائیکل سوار ایک شخص نے کہا کہ کسی کو کچھ پتا نہیں ہے، کراچی میں سڑکوں کا حال آپ کو پتا ہے کہیں گڑھے پڑے ہوئے ہیں کسی کو اپنی لائن کا نہیں پتا، نیا سسٹم شروع کرنے سے پہلے ضروری ہوتا ہے کہ لوگوں کو اس کی آگاہی دی جاتی ہے۔

ایک شہری نے اس پروگرام کی ناکامی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کی آگاہی کےلیے پہلے آپ ایک ماہ پروگرام کریں جگہ جگہ کیمپ لگائیں، بڑے بڑے بورڈز لگائیں اس کے بعد اس سسٹم کو لاگو کریں۔

موٹرسائیکل سوار شخص نے کہا کہ تھوڑا سا حکومت کو کام کرنا چاہیے، جیسے ان کو ریونیو آتا ہے تو یہ زیبرا کراسنگ کے نشان وغیرہ کو صحیح کردیں تاکہ لوگوں کو زیادہ آئیڈیا ہو۔

سڑک سے گزرنے والے ایک شہری نے کہا کہ ای چالان سے پہلے ان کو سڑکیں ٹھیک کرنی چاہئیں اور ایسا نہیں ہونا چاہے کہ ای چالان صرف موٹرسائیکل والوں کا ہے بسیں بھی چلتی ہیں ان کا بھی کچھ نہ کچھ ہونا چاہیے۔

ایک موٹرسائیکل سوار نے کہا کہ ای چالان تو وہاں ہو جہاں پرسڑکیں ٹھیک ہوں، زیبرا کراسنگ نہیں ہے کوئی سائن بورڈ نہیں ہے، کوئی اس طرح کی چیز نہیں ہے کہ ڈسپلن سے چلا جائے۔

spot_imgspot_img