spot_img

ذات صلة

جمع

پلاسٹک بیگز کا مٹیریل اسمگل ہوکر آتا ہے، سیپا کا انکشاف

کراچی : ملک بھر میں ہر سال 60 ارب سے زائد پلاسٹک بیگز استعمال کیے جاتے ہیں، جو انسانی صحت، زرعی زمینوں اور سمندری حیات کے لیے ایک سنگین ماحولیاتی خطرہ بن چکے ہیں۔

تاہم صوبہ سندھ میں گزشتہ سال ایک بار استعمال ہونے والے پلاسٹک بیگز پر عائد پابندی پر تاحال مؤثر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’باخبر سویرا‘ میں گفتگو کرتے ہوئے سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (سیپا) کے ڈائریکٹر عمران صابر نے بتایا کہ گزشتہ سال جب حکومت نے پلاسٹک بیگز کے استعمال پر پابندی عائد کی تو متعدد صنعت کاروں نے عدالتوں سے رجوع کرلیا۔

ان کا مؤقف تھا کہ انہوں نے اس صنعت میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے، اس لیے نئی پالیسی پر عمل درآمد کے لیے مزید وقت دیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ اس معاملے سے متعلق 15 سے 20 مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر سماعت رہے، تاہم اس دوران سیپا نے عوامی آگاہی مہم جاری رکھی۔

عدالتوں نے بھی ماحولیاتی تحفظ کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے درخواست گزاروں سے پلاسٹک بیگز کا مؤثر متبادل پیش کرنے کی ہدایت کی۔

عمران صابر نے انکشاف کیا کہ حکومت نے 30 مائیکرون موٹائی والے بیگز کی اجازت دی تھی، جبکہ 3 اور 5 مائیکرون کے انتہائی باریک ایک بار استعمال ہونے والے پلاسٹک کے تھیلے (سنگل یوز ) مقامی طور پر تیار نہیں کیے جاتے بلکہ بڑی مقدار میں اسمگل ہو کر ملک میں لائے جاتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ 30 مائیکرون والے بیگز سنگل یوز بیگز نہیں ہوتے، کیونکہ انہیں ایک سے زیادہ مرتبہ استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ پابندی بنیادی طور پر ایسے باریک تھیلوں پر ہے جو ایک بار استعمال کے بعد ضائع کر دیے جاتے ہیں۔

سیپا کے ڈائریکٹر کے مطابق پلاسٹک بیگز کے خلاف کارروائیاں عام دکانداروں کے بجائے ہول سیلرز اور سپلائرز کے خلاف کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پلاسٹک بیگز کے استعمال میں کمی لانے کے لیے ماحول دوست متبادل متعارف کرانے پر بھی کام کر رہی ہے۔

کِن پلاسٹک بیگز پر پابندی عائد؟ بڑی خبر

spot_imgspot_img