spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

پاک افغان طالبان مذاکرات : کابل سے کوئی حوصلہ افزا جواب نہیں آرہا، ذرائع

استنبول : پاکستان اور افغان طالبان رجیم کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور بھی اختتام کو پہنچا، کابل انتظامیہ سے کوئی حوصلہ افزا جواب نہیں آرہا۔

اس حوالے سے سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ استنبول مذاکرات میں آج بھی کوئی قابل ذکر پیش رفت نہ ہوسکی، مذاکرات کا تیسرا دن بھی مشکلات کا شکار رہا۔

سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بات چیت کے دوران پاکستان نے افغان طالبان کے سامنے جو منطقی اور مدلل مطالبات پیش کیے ہیں وہ بالکل جائز ہیں۔

ذرائع کے مطابق افغان طالبان کا وفد مذکورہ مطالبات کو پوری طرح تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے حالانکہ میزبان ممالک بھی یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان کے مطالبات معقول اور جائز ہیں۔

دلچسپ طور پر افغان طالبان کا وفد خود بھی اس بات کو بخوبی سمجھتا ہے کہ پاکستان کے مطالبات کو تسلیم کرنا ہی درست ہوگا، افغان طالبان کا وفد بار بار کابل سے رابطہ کرکے احکامات کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ افغان طالبان کے وفد کو کابل سے بیٹھ کر کنٹرول کیا جارہا ہے، پاکستانی وفد نے بارہا واضح کیا کہ مطالبات تسلیم کرنا سب کے مفاد میں ہے۔

میزبان ممالک نے بھی افغان طالبان وفد کو یہی بات سمجھائی ہے، کابل انتظامیہ سے کوئی حوصلہ افزا جواب نہیں آرہا، جس سے مذاکرات میں تعطل برقرار ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ لگتا ہے کہ کابل میں کچھ عناصر کسی اور ایجنڈے پر کام کررہے ہیں، جبکہ پاکستانی وفد کا مؤقف بدستور منطقی، مضبوط اور خطے کے امن کیلئے ناگزیر ہے۔

مزید پڑھیں : پاکستان نے افغان طالبان کو اپنا حتمی مؤقف پیش کردیا

استنبول میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری مذاکرات میں سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے سے متعلق پاکستانی وفد نے افغان طالبان سے سامنے اپنا حتمی مؤقف پیش کردیا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق استنبول میں ہونے والی بات چیت میں پاکستانی وفد نے افغان طالبان کے وفد کو حتمی مؤقف پیش کرتے ہوئے واضح کردیا ہے افغان طالبان کی طرف سے کی جانے والی دہشت گردوں کی سر پرستی نامنظور ہے۔

پاکستانی وفد نے یہ بھی واضح کیا کہ سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ٹھوس اور یقینی اقدامات کرنا پڑے تو ضرور کریں گے۔

یاد رہے کہ قبل ازیں گزشتہ روز ترکیہ کی میزبانی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور استنبول میں نو گھنٹے طویل مشاورت کے بعد اختتام پذیر ہوگیا تھا۔

مذاکرات میں دونوں ملکوں کے وفود نے دوحہ میں ہونے والے پہلے مذاکرات میں طے پانے والے نکات پر عمل درآمد کا تفصیلی جائزہ لیا۔

پاکستان نے افغان طالبان کو دہشت گردی کی روک تھام کے لیے ایک جامع پلان پیش کیا تھا۔ افغان طالبان نے اس پلان پر غورو خوض کے بعد آئندہ چند روز میں اپنے حتمی جواب سے پاکستان کو آگاہ کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

spot_imgspot_img