spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

پاک افغان طالبان مذاکرات ناکام ہوگئے، وزیر اطلاعات

اسلام آباد : وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ استنبول میں ہونے والے پاک افغان طالبان کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں۔

سوشل میڈیا پر جاری ایک پیغام میں وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ 4 روزہ مذاکرات کے بعد بات چیت میں قابل عمل حل نہیں نکالا جاسکا۔

استنبول میں ترکی اور قطر کی میزبانی میں ہونے والے پاک افغان طالبان مذاکرات چار روزہ بات چیت نے بعد اختتام پذیر ہوگئے، جس میں افغان طالبان کی جانب سے کوئی قابلِ عمل یقین دہانی یا ٹھوس اقدام سامنے نہیں آیا۔

اپنے پیغام میں انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے عوام کی سلامتی قومی ترجیح ہے، حکومت دہشت گردی کیخلاف ہرممکن اقدام کرتی رہے گی۔

افغان وفد نے باربار گفتگو کے اصل مسئلے سے رخ موڑا اور کلیدی نکتے سے انحراف کیا، پاکستان نے جو شواہد پیش کیے وہ کافی اور ناقابل تردید تھے، مذاکرات کا واحد ایجنڈا پاکستان پر افغان سرزمین سے حملوں کو رکوانا تھا۔

عطا تارڑ نے کہا کہ دہشت گردوں، ان کے ٹھکانوں اور سہولت کاروں کو نیست و نابود کیا جائے گا، حکومت پاکستان دہشت گردوں کیخلاف تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔

پاکستان نے افغان طالبان سے دوحہ معاہدے پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا تھا، طالبان حکومت افغان عوام کی نمائندہ نہیں ہے۔

پاکستانی وفد نے کہا کہ افغان طالبان وفد اصل مسئلے سے گریز کرتا رہا، ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے الزام تراشی اور موضوع کو بدلنے کی کوشش کرتا رہا، جس کے باعث مذاکرات کسی قابلِ عمل نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان حکومت اپنی بقا کیلئے جنگی معیشت پر انحصار کرتی ہے اور افغان عوام کو غیر ضروری جنگ میں دھکیلنا چاہتی ہے۔

وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغان عوام کے امن و خوشحالی کیلئے قربانیاں پیش کیں، پاکستان نے افغان طالبان کے ساتھ متعدد مذاکرات کیے، ان مذاکرات میں افغان طالبان نے پاکستان کے نقصانات سے بے نیازی دکھائی۔

عطا تارڑ نے کہا کہ چار برسوں کی جانی و مالی قربانیوں کے بعد پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے، قطر اور ترکیہ کی درخواست پر پاکستان نے امن کیلئے ایک اور موقع دیا، دوحہ اور استنبول میں مذاکرات کا واحد ایجنڈا افغانستان سے دہشت گردی روکنا تھا۔

spot_imgspot_img