spot_img

ذات صلة

جمع

امریکی فوج نے ایران پر حملے شروع کردیے

واشنگٹن (10 جون 2026) : آبنائے ہرمز کے قریب...

پاپا رازی کی کیا حقیقت ہے؟ حیران کن کہانی سامنے آگئی

پاپا رازی (Paparazzi)کسی ایک شخص کو نہیں بلکہ ان...

بے رحم شخص کا اونٹنی پر تشدد، دونوں آنکھیں نکال لیں

تھرپارکر : اندرون سندھ کے شہر تھرپارکر میں اونٹنی...

جھانوی کپور نے ’پیڈی‘ کے لیے کتنا معاوضہ لیا؟

بالی ووڈ اداکارہ جھانوی کپور کی فلم ’پیڈی‘ میں...

پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو تباہی سے کیسے بچایا جا سکتا ہے؟

اسلام آباد (4 جون 2026): پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی مشکلات کو کم کر کے اسے تباہی سے کیسے بچایا جا سکتا ہے اور اس شعبے کے ترقی پانے سے ملکی معیشت پر کیا مثبت اثرات مرتب ہوں گے؟

ان سوالات کا جواب جاننے کیلیے آر وائی نیوز نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے تجزیہ کار احسن ملک سے گفتگو کی جنہوں نے بتایا کہ معاشی ماہرین اور بیوروکریسی گزشتہ چار سال سے اس اہم شعبے کو نظر انداز کر رہے تھے جب عوام اس بات پر شور مچا رہے تھے کہ تعمیرات اور ہاؤسنگ سیکٹر کو ساتھ لے کر چلا جائے، اُس وقت ہماری بیوروکریسی، ایف بی آر اور وزیر اعظم شہباز شریف خود اسے ایک غیر پیداواری شعبہ قرار دے رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کا رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں مشکوک لین دین کی نگرانی سخت کرنے کا مطالبہ

احسن ملک نے کہا کہ یہ بہت اچھی بات ہے کہ اب حکومت کو خیال آگیا ہے اور انہوں نے ہاؤسنگ پر قرضے دینا شروع کیے ہیں اور اپنی پالیسی تبدیل کر رہے ہیں، اب واضح نظر آ رہا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف ہاؤسنگ سیکٹر کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں جو کہ ایک خوش آئند اقدام ہے، اس سے ملک کے اندر موجود سرمائے کی دوبارہ سرمایہ کاری ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس ریلیف کے بعد لوگوں کا سرمایہ سونا، کرپٹو کرنسی، اسٹاک ایکسچینج یا دیگر ذرائع سے نکل کر رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں واپس آئے گا۔

ٹیکسیشن کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے احسن ملک نے کہا کہ اگر کسی کی اہلیہ کو ان کی والدہ نے 10، 15 یا 20 سال پہلے سونا دیا ہو اور وہ اسے آج بیچنے جائیں تو ان پر 15 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس لاگو ہو جاتا ہے جو حیرت کی بات ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ حکومت کو چاہیے کہ لوگوں کے گھروں میں موجود پرانے سونے پر ٹیکس کی شرح کو کم کرے تاکہ لوگ اسے نقد کر کے اس پیداواری شعبے میں سرمایہ کاری کر سکیں جسے حکومت اب کارآمد سمجھ رہی ہے۔

ان کے مطابق اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے ماضی میں ٹیکس بڑھانے سے حکومت کا ریونیو تو اتنا ہی رہتا تھا لیکن لین دین کی تعداد گر جاتی تھی، تاہم گزشتہ سال کے مقابلے میں اس بار حکومت کا اپنا ریونیو بھی 29 سے 35 فیصد تک کم ہوا ہے، یہی وجہ ہے کہ اب حکومت کو ہاؤسنگ اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر دوبارہ ایک پیداواری شعبہ لگنا شروع ہوا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا تعمیراتی شعبے کو سہولیات اور قرضے دینے سے ملک 4 فیصد معاشی ترقی کا ہدف حاصل کر پائے گا اور اس سے منسلک 45 سے 55 صنعتوں کو کیا فائدہ ہوگا تو احسن ملک نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے آدھا تیتر اور آدھا بٹیر والی پالیسی اپنائی ہے یعنی ایک ٹیکس ختم کر کے دوسرا لگا دیا تو شاید یہ معاشی ترقی اور پیداوار حاصل نہ ہو سکے۔

’اگر حکومت نے واضح ذہن کے ساتھ رئیل اسٹیٹ اور ہاؤسنگ سیکٹر کو حقیقی ریلیف دیا تو یہ شعبہ ایک بار پھر معجزہ دکھائے گا، بالکل ویسا ہی جیسا عوام نے سال 2019-20 میں دیکھا تھا۔ اس سے ملک میں معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی اور ہر آدمی کے پاس خوشحالی آئے گی۔‘

spot_imgspot_img