spot_img

ذات صلة

جمع

امریکی فوج نے ایران پر حملے شروع کردیے

واشنگٹن (10 جون 2026) : آبنائے ہرمز کے قریب...

پاپا رازی کی کیا حقیقت ہے؟ حیران کن کہانی سامنے آگئی

پاپا رازی (Paparazzi)کسی ایک شخص کو نہیں بلکہ ان...

بے رحم شخص کا اونٹنی پر تشدد، دونوں آنکھیں نکال لیں

تھرپارکر : اندرون سندھ کے شہر تھرپارکر میں اونٹنی...

جھانوی کپور نے ’پیڈی‘ کے لیے کتنا معاوضہ لیا؟

بالی ووڈ اداکارہ جھانوی کپور کی فلم ’پیڈی‘ میں...

پاکستان پر ایک سال میں اربوں روپے کا قرض کیسے چڑھا؟ شہری پھٹ پڑے

لاہور : پاکستان پر قرض کا بوجھ گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری ہے اور اس میں مسلسل اضافہ بھی ہورہا ہے، لیکن اس کا ثمر یا ریلیف براہ راست عوام تک نہیں پہنچ پاتا۔

مالیاتی بدانتظامی، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور قرض اتارنے کے لیے مزید نئے قرضے لینے کی پالیسی اس صورتحال کو مزید گھمبیر کررہی ہے۔

اے آر وائی نیوز لاہور کی ایک ویڈیو رپورٹ میں پاکستان پر قرض کے معاملے پر شہریوں سے خصوصی گفتگو کی گئی جس پر لوگوں نے بڑھتی ہوئی مہنگائی ملکی معاشی حالات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان اس وقت مجموعی طور پر 97 ہزار 37 ارب روپے کے قرض تلے دبا ہوا ہے، گزشتہ سال یہ قرض 89 ہزار 774 ارب روپے تھا، یعنی صرف ایک سال کے دوران قومی قرضے میں 7 ہزار 553 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

مذکورہ ویڈیو میں شہریوں سے سوال کیا گیا کہ آخر گزشتہ ایک سال میں ایسا کیا ہوا کہ عوام پر اتنا بڑا قرضہ چڑھ گیا؟

جواب میں ایک شہری نے کہا کہ ملک تو مقروض ہے لیکن عوام کو کسی بھی قسم کی سہولت نہیں مل رہی، نہ روزگار بہتر ہوا اور نہ ہی بنیادی ضروریات پوری ہورہی ہیں، یہ قرض عوام نے نہیں بلکہ کرپشن نے بڑھایا ہے، کیونکہ بااثر لوگ بیرونِ ملک جائیدادیں اور فلیٹس خرید رہے ہیں جبکہ عام آدمی اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لیے بھی پریشان ہے۔

ایک اور شہری نے کہا کہ وہ اپنے لیے جوتے تک نہیں خرید سکتے، صرف بچوں کی ضرورت پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی نے زندگی اجیرن کردی ہے اور حکومت عوام کے حالات کے بارے میں نہیں سوچ رہی۔

کچھ افراد نے کہا کہ ان کی آواز سننے والا کوئی نہیں اور عوام کی رائے کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی۔

ایک شہری نے کہا کہ اگر قرض لیا بھی جارہا ہے تو اس کے بدلے عوام کو سہولیات تو ملنی چاہئیں، لیکن ایسا دکھائی نہیں دیتا، ان کے مطابق پیٹرول کی قیمتوں میں معمولی سی کمی کو ریلیف قرار دینا عوام کو بے وقوف بنانے کے مترادف ہے۔

مہنگائی کے حوالے سے شہریوں نے شکایت کی کہ چینی، گھی اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں جبکہ سرکاری شکایتی نظام بھی مؤثر کام نہیں کرتا۔

ایک شہری نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کرپشن کی وجہ سے عوام پر مزید بوجھ پڑ رہا ہے کیونکہ بعض افسران رشوت لے کر بیشتر معاملات نمٹا دیتے ہیں۔

ایک مزدور نے بتایا کہ وہ پہلے موٹر سائیکل پر ڈیوٹی پر جاتا تھا، مگر اب پٹرول مہنگا ہونے کی وجہ سے پیدل جانے پر مجبور ہے، اس نے کہا کہ روزانہ کی مزدوری میں سے زیادہ رقم پٹرول پر خرچ ہوجاتی ہے اور گھر کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہوگیا ہے۔

اس موقع پر شہریوں نے بجلی، گیس اور پٹرول کی بڑھتی قیمتوں پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر واقعی قرض ترقیاتی کاموں پر خرچ ہورہا ہے تو اس کے اثرات عوام کو نظر بھی آنے چاہئیں۔

عوام کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں مہنگائی کم ہوتی دکھائی نہیں دیتی، شہریوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے بجٹ میں حکومت عوام کو بنیادی ضروریات اور روزمرہ زندگی میں حقیقی ریلیف فراہم کرے گی۔

spot_imgspot_img