spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

پاکستانی قالین نے جرمنی میں دھوم مچادی

فرینکفرٹ : جرمنی میں منعقدہ عالمی ہیم ٹیکسٹائل تجارتی نمائش میں ہاتھ سے تیار کیے گئے پاکستانی قالین کی دھوم مچ گئی۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں دنیا کی سب سے بڑی گھریلو مصنوعات کی نمائش ہیم ٹیکسٹائل 2026 کامیابی سے جاری ہے۔

عالمی نمائش ہیم ٹیکسٹائل میں ہاتھ سے تیار کیے گئے پاکستانی قالینوں نے دھوم مچادی اور پاکستانی اسٹالز پر امریکی اور یورپی خریداروں کا رش لگا رہا۔

ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) نے ہیم ٹیکسٹائل نمائش میں پہلی بار پاکستانی قالین کے فروغ کے لیے  پویلین کا انعقاد کیا ہے جہاں دس پاکستانی نمائش کنندگان شریک ہیں۔

نمائش میں ہاتھ سے بنے پاکستانی قالین خریداروں کی بھرپور توجہ حاصل کررہے ہیں، ٹڈاپ کی جانب سےقائم پاکستانی قالینوں کے خصوصی پویلین پر دوسرے روز بھی رش لگ گیا، 90 فیصد ہاتھ سے تیار روایتی اور جدید ڈیزائن کے قالین خریداروں کی خصوصی دلچسپی کاباعث بنے ہوئے ہیں۔

Textile Exhibition

نمائش میں شرکت کرنے والے پاکستانی نمائش کنندگان کا کہنا ہے کہ ہیم ٹیکسٹائل 2026پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈی میں مضبوط موجودگی کا واضح ثبوت ہے۔

نمائش میں پاکستانی قالینوں میں عالمی خریداروں کی توجہ کے حوالے سے پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین میاں عتیق الرحمن نے بتایا کہ پاکستان کے تیار قالینوں کو اس نمائش میں انتہائی زبردست رسپانس ملا ہے۔

یاد رہے کہ ماضی میں پاکستان کا ہاتھ سے تیار کردہ سوتری قالین دنیا بھر میں مقبول تھا، پاکستان میں قالین سازی کے شعبہ کو حکومت کی توجہ اور تعاون درکار ہے۔

exhibition

ماضی میں پاکستان قالینوں کی بر آمد 350 ملین ڈالرز تھی جو اب گھٹ کر 70 ملین ڈالرز کی سطح پر آگئی ہے۔ قالین سازی کے شعبے میں مسابقتی ممالک میں مراعات اور سہولیات فراہم کی جاتی ہیں تاکہ عالمی مارکیٹ میں جگہ بنائی جاسکے۔

اگر پاکستان میں قالین سازی کے شعبے کی ترقی اور جدت پر توجہ مرکوز کی جائے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم اس شعبے میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔

spot_imgspot_img