spot_img

ذات صلة

جمع

کیا آج اسلام آباد ہائیکورٹ کھلی رہے گی؟

اسلام آباد (21 اپریل 2026): اسلام آباد ہائیکورٹ کھلی...

کراچی : مسلح افراد نے سڑک پربیوی کے سامنے ڈاکٹر کو قتل کردیا

کراچی : شارع فیصل میٹرو پول کے قریب فائرنگ...

موٹاپا اور ذیابیطس کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟ حیران کن انکشافات

کراچی : پاکستان میں موٹاپا اور ذیابیطس کے امراض...

نیا سال جنوری سے ہی کیوں شروع ہوتا ہے؟ دلچسپ تاریخی کہانی

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آخر دنیا بھر میں نیا سال یکم جنوری کو ہی کیوں شروع ہوتا ہے؟ یہ تاریخ ہمیشہ سے ایسی نہیں تھی۔

ایک زمانہ تھا جب نئے سال کا آغاز یکم مارچ سے ہوتا تھا اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اُس وقت سال میں بارہ نہیں بلکہ صرف دس مہینے ہوا کرتے تھے۔

قدیم روم میں کیلنڈر کی بنیاد روم کے بانی رومیولس نے رکھی، اُس دور میں وقت کا حساب موسموں سے زیادہ جنگوں کے لحاظ سے رکھا جاتا تھا اور چونکہ مارچ جنگوں کے آغاز کا مہینہ سمجھا جاتا تھا، اس لیے نیا سال بھی مارچ سے شروع ہوتا تھا۔

مارچ کا نام جنگ کے دیوتا “مارس” کے نام پر رکھا گیا۔ اپریل بہار اور حسن کی دیوی “ایفروڈائٹ”، مئی افزائش کی دیوی “مایا”، اور جون شادی و طاقت کی دیوی “جونو” کے نام سے منسوب تھا۔

باقی مہینوں کے نام لاطینی اعداد پر رکھے گئے، جیسے ستمبر ساتواں، اکتوبر آٹھواں، نومبر نواں اور دسمبر دسواں مہینہ کہلاتا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سردیوں کے دنوں کو سرے سے شمار ہی نہیں کیا جاتا تھا۔ وہ گویا “بے حساب وقت” تصور کیے جاتے تھے۔

مگر وقت کے ساتھ مسائل بڑھنے لگے۔ چونکہ یہ قمری کیلنڈر تھا، سیاست دان اپنی مرضی سے دن بڑھا دیتے، تہوار غلط موسموں میں آنے لگے، فصلیں اور موسم کیلنڈر سے میل نہ کھاتے، اور یوں پورا نظام بگڑ گیا۔

پھر منظر پر آئے جولیس سیزر۔ انہوں نے 46 قبل مسیح میں ایک نیا “جولین کیلنڈر” متعارف کرایا، جو سورج کے حساب سے ترتیب دیا گیا۔

سال کو 365 دنوں پر مشتمل کیا گیا، اور ہر چار سال بعد ایک لیپ ایئر رکھا گیا، اسی اصلاح کے دوران سال کا آغاز مارچ کے بجائے جنوری سے کر دیا گیا، کیونکہ جنوری کا نام “جینس” نامی دو چہروں والے دیوتا کے نام پر رکھا گیا تھا، جو آغاز اور تبدیلی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ بعد میں فروری کا بھی اضافہ کیا گیا۔

جولیس سیزر نے اپنے نام پر جولائی کا مہینہ رکھا، جبکہ ان کے جانشین آگسٹس کے نام پر اگست رکھا گیا۔

یہ کیلنڈر تقریباً پندرہ سو برس تک پورے یورپ میں رائج رہا، لیکن اس میں ہر سال گیارہ منٹ کی معمولی غلطی رہ جاتی تھی۔ صدیوں بعد یہی فرق بڑھ کر مسئلہ بن گیا۔ چنانچہ سولہویں صدی میں پوپ گریگوری نے اس غلطی کو درست کیا اور گریگورین کیلنڈر متعارف کرایا۔

اس اصلاح کے تحت اکتوبر 1582ء میں دس دن حذف کر دیے گئے، یعنی 4 اکتوبر کے بعد سیدھا 15 اکتوبر آ گیا۔

آج پوری دنیا میں یہی گریگورین کیلنڈر رائج ہے اور اسی کی بدولت ہم ہر سال یکم جنوری کو نیا سال مناتے ہیں۔

کلینڈر سے اکتوبر کے 10 دن کہاں چلے گئے؟

spot_imgspot_img