spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

نادرا کسی شہری کا شناختی کارڈ ضبط یا بلاک کیوں کرتا ہے؟ ویڈیو

کراچی : ملک بھر میں پانچ سال کے دوران 80 ہزار 847 شناختی کارڈ بحال اور ضبط کیے گئے یہ شناختی کارڈ کیوں اور کن وجوہات کی بنا پر ضبط کیے جاتے ہیں اس کی تفصیل نادرا آفیسر سید شباہت علی نے بتائی۔

ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ شناختی کارڈ غیر فعال ہونا، Impounding یا Duplicate کیا ہے اور اس کی وجوہات کیا ہو سکتی ہیں؟

ان کا کہنا تھا کہ اپماؤنڈنگ ایک قانونی اصطلاح ہے جسے عام طور پر لوگ کارڈ بلاک ہونا کہتے ہیں، اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ جو شناختی کارڈ کسی بھی وجہ سے غیر مؤثر ہوجاتا ہے یعنی وہ کارڈ کسی جگہ بھی کام نہیں آئے گا۔

اس کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں جن میں غیرمصدقہ معلومات بائیو میٹرک مسائل یا کارڈ کی مدت پوری ہونا وغیرہ ہیں۔ جسے ٹھیک کرانے یا نیا جاری کرانے کیلیے متاثرہ شہری کو دفتر آنا پڑتا ہے۔

ڈپلیکیٹ کارڈ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پہلے بہت سے لوگ اس طرح کا کام کرلیا کرتے تھے لیکن اب ہمارا سسٹم پہلے سے بہت بہتر ہوگیا ہے جس کی وجہ سے ڈپلیکیٹ کارڈ بنوانا مشکل بلکہ ناممکن ہوگیا ہے۔

کسی شہری کی جانب سے غلط معلومات کی فراہمی پر سزا سے متعلق سوال پر سید شباہت علی نے بتایا کہ نیشنل ڈیٹا بیس میں غلط بیانی کا مطلب ہے کہ آپ نے ریاست سے جھوٹ بولا جو کہ یقیناً قرار واقعی ایک جرم ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ویسے تو نادرا نے ابھی تک کسی شہری کو اس قسم کی سزا تو نہیں دلوائی لیکن اس جرم کی سزا قید و جرمانہ ہے جو کہ دی جاسکتی ہے۔

spot_imgspot_img