پاکستان میں سب سے زیادہ حادثات ڈرائیوروں کی غفلت،لاپروائی یا پھر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی وجہ سے پیش آتے ہیں، موٹر وے پولیس نے اس کا حل تلاش کرلیا۔
بدقسمی سے آئے روز ہونے والے واقعات و ٹریفک حادثات کے باوجود نہ تو کوئی مؤثر اقدامات کیے جاتے ہیں اور نہ ہی کوئی نئی قانون سازی عمل میں لائی جاتی ہے جب کہ پہلے سے موجود قوانین پر بھی کوئی خاص عمل درآمد نہیں کروایا جاتا۔
اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں ڈی آئی جی موٹر وے پولیس سید فرید علی نے ناظرین کو مسافر بسوں میں کیے جانے والے اقدامات اور تفصیلات سے آگاہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ موٹروے پولیس نے مسافر بسوں میں سیفٹی اور مانیٹرنگ کو بہتر بنانے کے لیے ڈیش کیمز لگانے کا باقاعدہ آغاز کردیا ہے۔
اس اقدام کا مقصد ڈرائیوروں کی نگرانی، حادثات کی روک تھام اور ٹریفک قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانا ہے، جس سے سفر کو مزید محفوظ بنایا جا سکے گا۔
سید فرید علی نے بتایا کہ اس سلسلے میں پہلے بھی بہت سے اقدامات کیے گئے تھے، اب ہم نے مسافر بسوں میں ڈیش کیمرے لگائے ہیں جن سے ڈرائیوروں کی کارکردگی پر نظر رکھی جائے گی اس کیلیے ایک خصوصی سافٹ ویئر بنایا ہے جس میں ڈرائیوروں کا سارا ڈیٹا شامل ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان تمام بسوں کے مالکان کو پابند کردیا گیا ہے کہ جس مسافر بس میں ڈیش کیم نہیں ہوگا وہ بس روڈ پر نہیں آئے گی اور ہر بس میں دو ڈرائیوروں کا ہونا لازمی ہے۔ اس کے علاوہ ہر وہ گاڑی جس کا فٹنس سرٹیفیکٹ نہیں ہوگا وہ ہائی وے یا موٹر وے پر نہیں آسکتی۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈرائیوروں کی اہلیت کی بات کی جائے تو ہمارے ڈرائیور حضرات کی اکثریت ناخواندہ اور غیر تربیت یافتہ ہے، جس کی وجہ سے ان کی بہت بڑی تعداد جدید دور کے تقاضوں اور ٹریفک کے اصولوں کو سمجھنے سے قاصر ہوتی ہے۔



