فلوریڈا : معصوم بچی کو مگرمچھوں کے حوالے کرنے والا قاتل ایک بار پھر پھانسی سے بچ گیا، عدالت نے موت کی سزا عمر قید میں بدل دی۔
امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق فلوریڈا کی ایک عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ ملزم نے 1998 میں 5سالہ بچی کواتیشا میکاک کو ایورگلیڈز (مگرمچھوں کے علاقے) میں چھوڑ دیا تھا جہاں مگرمچھوں نے کھا لیا تھا، ملزم کو سزائے موت نہیں دی جائے گی۔
میامی ڈیڈ کاؤنٹی کی سرکٹ کورٹ کے جج نے اپنے فیصلے میں بتایا کہ بچی کے قاتل ہیرل بریڈی کو سزائے موت کے بجائے عمر قید کی سزا دی جائے گی کیونکہ بریڈی اب 76 برس کا ہوچکا ہے۔
76سالہ بریڈی کے خلاف مقدمے کی سماعت 20 جنوری کو شروع ہوئی اور گزشتہ جمعے اختتام پذیر ہوئی، جیوری نے فیصلہ دیا کہ اسے ایک بار پھر سزائے موت نہ دی جائے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق سال 2007 میں ملزم بریڈی کو فرسٹ ڈگری قتل، اغوا اور دیگر الزامات کے تحت مجرم قرار دیا گیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق نومبر 1998 میں اس نے کواتیشا اور اس کی والدہ شینڈیل میکاک کو اغوا کیا تھا۔
پراسیکیوٹرز نے عدالت کو بتایا کہ بچی کے قاتل بریڈی نے اس کو ایسے مقام پر چھوڑا جسے عام طور پر “الیگیٹر ایلی” کہا جاتا ہے، یہ ایک ایسا علاقہ ہے جہاں مگرمچھوں کی بہتات ہے، وہاں کے خوخوار مگرمچھوں نے بچی پر حملہ کرکے اسے ہلاک کر دیا تھا۔
مقتولہ کی والدہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ملزم اور اس کی اہلیہ سے ایک چرچ میں ملاقات ہوئی بعد ازاں کچھ اختلافات کی بنیاد پر بریڈی نے ہم دونوں کو اغوا کرکے تشدد کیا کیونکہ میں نے اسے اپنا اپارٹمنٹ چھوڑنے کو کہا تھا۔
حکام کے مطابق ملزم بریڈی نے ماں اور بیٹی کو اپنی گاڑی میں لے جا کر ماں کو سڑک کنارے چھوڑ دیا، جہاں وہ بے ہوش ہوگئیں اور بچی کو نہر کے پاس مگرمچھوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا اور بعد ازاں بچی کی لاش اس نہر کے کنارے سے ملی۔
رپورٹ کے مطابق ملزم بریڈی کو اس سے قبل 2007 میں سزائے موت سنائی گئی تھی، لیکن 2017 میں امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد فلوریڈا میں کئی سزائیں منسوخ کر دی گئیں، جن میں بریڈی کی سزا بھی شامل تھی۔
اگرچہ 2023 میں فلوریڈا میں سزائے موت سے متعلق نیا قانون نافذ کیا گیا، لیکن اس کیس میں جیوری نے ایک بار پھر ملزم کو سزائے موت دینے سے انکار کر دیا تھا۔



