مصنوعی ذہانت اے آئی نے حالیہ برسوں میں نمایاں ترقی کی ہے، اس ٹیکنالوجی کی بدولت کاروبار سمیت زندگی کے مختلف شعبوں میں انقلاب برپا ہوگیا ہے۔
لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مستقبل میں ہمیں مصنوعی ذہانت سے کوئی خطرہ درپیش ہوسکتا ہے؟ یا پھر یہ ہمیں سست اور کم عقل بنا رہی ہے؟
موجودہ دور میں تعلیمی اداروں خصوصاً اسکولوں میں اے آئی کا استعمال طلباء اور اساتذہ دونوں ہی کررہے ہیں۔
ایک انڈونیشین خاتون ٹیچر کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ میں پریزنٹیشن اور امتحانی پیپرز کی تیاری کیلیے چیٹ جی پی ٹی استعمال کرتی ہوں۔ اس کے علاوہ میں گرامر اور اسپیلنگ کی غلطیاں درست کرنے کیلیے اے آئی سے ہی مدد لیتی ہوں۔
ایک رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت اے آئی انتظامی معاملات بھی سنبھال سکتی ہے، جس کی بدولت اساتذہ کو طلباء پر زیادہ توجہ دینے کا وقت مل جاتا ہے لیکن پرائیویسی کے خدشات سنگین ہیں۔
لیڈی ٹیچر کا کہنا ہے کہ اگر ہم طلباء کیلیے ورک شیٹ بناتے ہیں تو ہمیں فرضی نام استعمال کرنا پڑتا ہے، ہم وہاں اپنا اصل نام نہیں ڈال سکتے کیونکہ اگر اے آئی کو ذاتی معلومات فراہم کی جائیں تو مصنوعی ذہانت انہیں آگے بھی استعمال کرسکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس لیے اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ اے آئی کو ذاتی معلومات نہ دی جائیں، کیونکہ جو معلومات بھی آپ چیٹ بوٹ میں ڈالتے ہیں وہ وہاں محفوظ ہوسکتی ہیں۔ اور اے آئی ماڈلز کو تربیت دینے کیلیے استعمال ہوسکتی ہیں۔
یاد رکھیں!! اگر ایک بار بھی کسی بھی قسم کی ذٓاتی نوعیت کی معلومات اسے فرایم کردی جائیں تو اسے ڈیلیٹ نہیں کیا جاسکتا۔
دوسری جانب طلبہ بھی اسے خوب استعمال کررہے ہیں لیکن اساتذہ یہ سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں کہ اس مسئلے سے کیسے نمٹا جائے؟
اس حوالے سے خاتون ٹیچر نے بتایا کہ میں اپنے اسٹوڈنٹس سے کہتی ہوں کمہ وہ بوقت ضرورت چیٹ جی پی ٹی سے مدد لے سکتے ہیں لیکن تمام ہوم ورک کیلیے اس پر ہی مکمل انحصار کریں۔



