spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

مردانہ لباس پہننا کم عمر لڑکی کے لیے عذاب بن گیا، بہیمانہ تشدد کی ویڈیو وائرل

بنوں میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے کم عمر لڑکی پر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا ہے 15 سالہ لڑکی پر الزام ہے کہ وہ مردانہ لباس پہن کر گھوما کرتی تھی۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق بنوں کے علاقے ڈومیل میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے ایک کم عمر لڑکی کو مردانہ حلیہ اپنانے پر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور معافی کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کردی۔

پولیس حکام کے مطابق مذکورہ ویڈیو میں ہمشادہ عرف چھوٹا خان نامی لڑکی سے کہلوایا گیا کہ وہ آئندہ اس طرح لڑکوں کے ساتھ نہیں گھومے گی اور گھر سے باہر بھی نہیں نکلے گی۔

اے آر وائی نیوز بنوں کے نمائندے احسان خٹک کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز مسلح افراد نے ایک لڑکی ہمشادہ عرف چھوٹا خان اور لڑکے اسامہ کو اغوا کرکے ان پر تشدد کیا۔

تاہم بعد ازاں پولیس نے دونوں بچوں کو بازیاب کرالیا لیکن چھاپے کے دوران ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ ملزمان میں بازیاب ہونے والے لڑکےاسامہ کا والد بھی شامل ہے۔

پولیس کے مطابق مغوی لڑکے اسامہ کے والد نے اپنے بیٹے کی شکایت مقامی شدت پسند کمانڈر نصیر سے کی تھی جس پر اس نے بچوں کو اغوا کیا۔

واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد صارفین اس واقعے پر شدید برہمی کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ علماء اکرام نے بھی اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ طاہر اشرفی نے بتایا کہ اس طرح کے فعل کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے، کچھ لوگ اپنی راوایات اور انا کی تسکین کیلیے ایسے جرائم کرتے ہیں اور اپنا فعل چھپانے کیلیے اسے شریعت کا نام دیتے ہیں۔

سانگھڑ میں لڑکی پر تشدد اور زبان کاٹنے والا وڈیرے کا بیٹا گرفتار

spot_imgspot_img