spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

ماں بیوٹی پارلر چلی گئی، گاڑی میں بچوں کے ساتھ کیا ہوا ؟ روح فرسا واقعہ

کیلیفورنیا : فیشن کی شوقین ماں کی سنگین غفلت نے بچے کی جان لے لی، بیوٹی پارلر جانے سے گاڑی میں موجود بچہ دم گھٹنے سے جان کی بازی ہار گیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق کیلیفورنیا میں ایک خاتون کے خلاف اس کے ایک سالہ بیٹے کی گاڑی میں ہونے والی موت کے معاملے پر قتل کا مقدمہ چل رہا ہے۔

یہ واقعہ 29 جون 2025چکو کیلیفورنیا میں پیش آیا جہاں ایک ماں کی لاپرواہی کی وجہ سے ننھی سی جان زندگی کی بازی ہار گئی۔ ملزمہ ہرنینڈیز نے اپنے دونوں بچوں کو پارکنگ لاٹ میں کھڑی گاڑی میں چھوڑا اور خود بیوٹی پارلر میں لپ فلر انجیکشن لگوانے چلی گئی تھی۔

استغاثہ کی جانب سے ملزمہ ماں مایا ہرنینڈیز پر فرسٹ ڈگری قتل، بچوں پر ظلم اور غیر ارادی قتل کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

استغاثہ نے کہا کہ یہ واقعہ بُھول چوک کا نتیجہ نہیں ہوسکتا بلکہ ایک ماں کی جان بوجھ کر کی گئی حرکات ہیں، استغاثہ کے مطابق ملزمہ نے اپنی خوبصورتی کو بچوں کی زندگی پر ترجیح دی لہٰذا اسے قرار واقعی سزا دی جائے۔

پولیس کے مطابق دو گھنٹے بعد جب وہ پارلر سے واپس آئی تو دونوں بچے تشویشناک حالت میں بند تھے ایک سالہ امیلیو گٹیریس کو اسپتال پہنچایا گیا تو اسے فوری مردہ قرار دے دیا گیا جبکہ دو سال کا دوسرا بچہ 99 ڈگری بخار کے ساتھ زندہ بچ گیا۔

اس حوالے سے بیوٹی پارلر کے ملازمین نے بتایا کہ انہوں نے خاتون کو بچوں کو اندر لانے کی اجازت دی تھی، مگر پھر بھی اس نے انہیں گاڑی میں چھوڑ دیا۔

اس نے اپنی 2022 ماڈل ٹویوٹا کرولا ہائبرڈ کو چلتی حالت میں چھوڑنے کا دعویٰ کیا، مگر ایک عینی شاہد کے مطابق گاڑی کا اے سی بند تھا۔ بعد ازاں کمپنی کے ماہر نے بتایا کہ گاڑی کا اے سی ایک گھنٹے بعد خودکار طور پر بند ہو جاتا ہے۔

ملزمہ کے وکلاء نے اپنے دلائل میں کہا کہ ہرنینڈیز سمجھ رہی تھیں کہ ان کا میڈیکل پروسیجر صرف 15 منٹ کا ہوگا، اسی لیے انہوں نے بچوں کو کوکیز، دودھ اور فون دے کر گاڑی میں چھوڑا۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ وہ تقریباً دو گھنٹے بعد واپس آئیں، کیونکہ بیوٹی پارلر میں غیرمعمولی رش تھا۔

دفاعی وکیل کا کہنا ہے کہ مایا نے سوچا تھا کہ وہ صرف چند منٹ کے لیے جا رہی ہے، اسی لیے اس نے گاڑی میں اے سی آن چھوڑا تھا۔”

کیس کی سماعت کے موقع پر دفاع نے قتل کے الزام کو چیلنج کیا ہے مگر بچوں پر ظلم اور غیر ارادی قتل کے الزامات قبول کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

spot_imgspot_img