حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی حکومت نے 6 اپریل سے مارکیٹیں رات 8 بجے بند کرانے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ بجلی کی بچت کیلئے دن میں زیادہ سے زیادہ کاروبار کو ترجیح دی جائےگی۔
دکانیں رات 8 بجے بند کرنے کےلیے صوبائی حکومتوں سےمشاورت کی جائےگی اس حوالے سے وزیراعظم ،چاروں وزرائے اعلیٰ اور عسکری قیادت کی مشاورت سے متفقہ فیصلہ کریں گے۔
ایران پر امریکا اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ سے دنیا بھر میں ایندھن کی سپلائی متاثر ہونے سے فیول کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک بڑھ چکی ہیں۔
دنیا بھر کی طرح پاکستانی حکومت نے بھی فیول کی سپلائی کو برقرار رکھنے کے لیے کفایت شعاری پالیسی اختیار کی جس کے تحت ہفتہ اسکولوں میں چھٹیاں کی گئیں، سرکاری اداروں گاڑیوں کے غیرضروری استعمال اور ایندھن کی کھپت کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے۔
پیٹرول ڈیزل
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں ہوشربا اضافہ کرنے کا اعلان کر دیا جس سے مہنگائی کا ایک نیا طوفان آئے گا۔
وزیر مملکت برائے خزانہ علی پرویز ملک نے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 458 روپے 40 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت 520 روپے 35 پیسے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پیٹرول کی قیمت میں 138 جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد نئے نرخ بالترتیب 458 روپے 40 پیسے اور 520 روپے 35 پیسے ہوگئے۔ حکومتی اعلان کے بعد نئے نرخ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔



