spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

قاتل مسخرہ : بچوں کو ہنسانے والے درندہ صفت جوکر کا عبرتناک انجام

امریکا کی تاریخ کے بدنام ترین سیریل کلرز میں شمار کیا جانے والا 33 افراد کا قاتل مسخرہ جان وین گیسی، جسے میڈیا نے “کلر کلاؤن” کا لقب دیا تھا، ایک بار پھر خبروں میں ہے۔

دنیا کی تاریخ میں کچھ ایسے ہی خطرناک قسم کے سیریل کلرز گزرے ہیں جنہوں نے ظلم اور بربریت کی ناقابل فراموش داستانیں رقم کیں، ایسے لوگ بظاہر تو انسان نظر آتے ہیں لیکن ان میں انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔

جان وین گیسی جو اپنے محلے میں ایک تعمیراتی ورکر اور سیاست میں سرگرم شخص کے طور پر جانا جاتا تھا، خفیہ طور پر ایک خطرناک سیریل کلر اور قاتل مسخرہ تھا۔ اس کے گھر کے نیچے موجود تہہ خانے سے نوجوانوں کی 30لاشیں برآمد ہوئیں۔

سال 1978میں ایک 15 سالہ لڑکے کے غائب ہونے کے بعد پولیس نے جان وین گیسی پر شک کی بنیاد پر تحقیقات کیں تو انکشاف ہوا کہ وہ 33 افراد کے قتل میں بھی ملوث تھا، اس کے جرائم کی فہرست میں مقتولین پر جنسی تشدد اور انتہائی اذیت سے مارنا شامل تھے۔

john gacy

اس قاتل کی وارداتوں پر ایک مشتمل نئی منی سیریز ’’ڈیول ان ڈسکائز : جان وین گیسی‘‘گزشتہ سال 2025میں تیار کی گئی جو اس سفاک قاتل کے جرائم کے واقعات، متاثرین کی کہانیوں اور پولیس کی تحقیقات پر مبنی ہے۔

1970کی دہائی میں ریاست الینوائے میں جان وین گیسی نے کم از کم 33 کم عمر لڑکوں اور نوجوان مردوں کو زیادتی کے بعد قتل کیا۔ مقتولین میں اکثریت ہم جنس پرست یا عام نوجوانوں کی تھی۔

اداکار مائیکل چرنس جو سیریز میں گیسی کا کردار ادا کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ جرائم برسوں تک اس لیے نظرانداز ہوتے رہے کیونکہ اس دور میں ہم جنس دشمنی (سسٹیمک ہوموفوبیا) عام تھی۔

قاتل جوکر

جان وین گیسی بچوں کی سالگرہ اور دیگر فلاحی تقریبات میں ایک مسخرے کے لباس میں پرفارم کرتا تھا۔ اسی وجہ سے میڈیا نے اسے “کلر کلاؤن” کا لقب دیا تھا۔ اپنی زندگی کا پہلا قتل اس نے 1972 میں کیا مگر پولیس نے 6 سال بعد سنجیدگی سے اس وقت تحقیقات شروع کیں جب 1978 میں ایک 15 سالہ لڑکا رابرٹ پیسٹ لاپتا ہوا۔

طویل تفتیش کے بعد گیسی کے گھر کے نیچے موجود کروال اسپیس سے درجنوں لاشیں برآمد ہوئیں، جنہیں اس نے خود اپنے ہاتھوں سے دفن کیا تھا۔

سفاک قاتل گیسی قتل کی تمام وارداتیں نارووڈ پارک، شکاگو میں واقع اپنے گھر میں کرتا رہا۔ 1979میں گرفتاری کے بعد اس مکان کو مکمل طور پر توڑ دیا گیا۔ ایک کارکن کے الفاظ تھے کہ اگر شیطان زندہ ہے، تو وہ یہیں رہتا تھا۔

John Wayne Gacy

1980میں جان وین گیسی کو 33 افراد کے قتل کا مرکزی مجرم قرار دے کر سزائے موت سنائی گئی۔ اس چالاک شخص نے عدالت میں خود کو ذہنی مریض ثابت کرنے کی کوشش کی مگر جیوری نے اس دلیل کو مسترد کر دیا۔14 سال قید میں رہنے کے بعد بالآخر 1994 میں اسے زہریلا انجیکشن دے کر پھانسی دے دی گئی۔

نئی منی سیریز ’’ڈیول ان ڈسکائز : جان وین گیسی‘‘ میں قتل کے مناظر نہیں دکھائے گئے، پروڈیوسر پیٹرک میک مینس کے مطابق ہم قاتل کو نہیں بلکہ متاثرین کو سامنے لانا چاہتے تھے تاکہ ناظرین انہیں زندہ انسان کے طور پر دیکھ سکیں۔ یہ سیریز 16 اکتوبر 2025کو پیکوک پر نشر کی گئی تھی۔

جان وین گیسی کی کہانی صرف ایک قاتل کی ہی نہیں، بلکہ معاشرے کی غفلت۔ پولیس کی ناکامی اور خاموشی سے چپ چاپ مارے جانے والے درجنوں نوجوانوں کی وہ داستان ہے جس میں ایک مسخرہ اپنی سفاک ہنسی کے پیچھے موت کو چھپائے ہوئے تھا۔

spot_imgspot_img