(14 جون 2026): سائنسدانوں نے حالیہ ہی میں کی گئی تحقیق میں فرینچ فرائز (تلے ہوئے آلو) کے شوقین افراد کو خبردار کر دیا کیونکہ اس سے جان لیوا بیماری ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق طبی جریدے دی بی ایم جے میں شائع ہونے والی نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آلو پکانے کا طریقہ صحت پر اس کے اثرات کو نمایاں طور پر متاثر کرتا ہے۔
محققین نے دریافت کیا کہ فرینچ فرائز کھانے سے ٹائپ 2 ذیابیطس ہونے کا خطرہ کافی حد تک بڑھ جاتا ہے جبکہ بیکڈ یا ابلے ہوئے آلو کھانے سے صحت کو اس طرح کے خطرات لاحق نہیں ہوتے۔
یہ بھی پڑھیں: فرائز کھانے سے دو کمسن بچیوں کی موت کیسے ہوئی؟
یہ نتائج امریکا میں 2 لاکھ 5 ہزار سے زائد طبی ماہرین کے ایک وسیع تجزیے سے سامنے آئے ہیں جن کی صحت پر تقریباً چار دہائیوں تک نظر رکھی گئی۔ اس مشاہداتی مدت کے دوران 22 ہزار سے زائد شرکا میں ٹائپ 2 ذیابیطس کی تشخیص ہوئی۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں انسانی جسم انسولین کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے اور خون میں شوگر کی مقدار کو متوازن رکھنے میں ناکام رہتا ہے۔
تحقیق کے مطابق ہفتے میں فرینچ فرائز کی تین خوراکیں استعمال کرنے سے اس بیماری کا خطرہ 20 فیصد تک بڑھ جاتا ہے، جبکہ اس کے برعکس بغیر تلے ہوئے آلو کھانے سے ذیابیطس کے خطرے میں کوئی نمایاں اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔
محققین نے غذا میں متبادل چیزوں کے استعمال کا بھی جائزہ لیا۔ فرینچ فرائز کی جگہ اناج جیسے کہ براؤن رائس یا جو کو شامل کرنے سے ذیابیطس کا خطرہ 19 فیصد تک کم ہوگیا۔
تاہم، آلو کی جگہ سفید چاول کا استعمال کرنے سے یہ خطرہ درحقیقت بڑھ گیا جو نظام ہضم اور توانائی کی صحت کیلیے متبادل غذاؤں کے درست انتخاب کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
اگرچہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق تھی اور یہ حتمی طور پر ثابت نہیں کر سکتی کہ فرینچ فرائز ہی براہ راست ذیابیطس کا باعث بنتے ہیں لیکن اس کا بے مثال پیمانہ اور چار دہائیوں پر محیط طویل دورانیہ اس بات کے ٹھوس شواہد فراہم کرتا ہے۔



