spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

سعودی عرب: سنگین جرم میں 3 شہریوں کو سزائے موت

سعودی عرب میں وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ منشیات اسمگل کرنے پر تین سعودی شہریوں پر سزائے موت کا فیصلہ نافذ کر دیا گیا ہے۔

سعودی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی شہری سعود الرویلی مساعد الاشجعی اور خالد الحازمی کو منشیات اسمگل کرتے ہوئے حراست میں لیا گیا تھا۔

وزارت کے مطابق تمام ثبوت اور دلائل کے ساتھ ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں الزام ثابت ہونے اور زمین میں فساد پھیلانے پر سزائے موت کا فیصلہ سنا دیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق بعد ازاں اپیل کورٹ نے زریں عدالت کے فیصلے کی تصدیق کی اور ایوان شاہی نے فیصلے پر عملدرآمد کی منظوری دی ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں منشیات کی نقل و حمل یا ان کی تجارت کرنا ایک سنگین جرم سمجھا جاتا ہے، اور اس کے لیے انتہائی سخت سزائیں رکھی گئی ہیں۔ سعودی قوانین کے مطابق، منشیات کے ساتھ پکڑے جانے کی صورت میں درج ذیل سزائیں ہو سکتی ہیں:

موت کی سزا:

مملکت میں منشیات کی اسمگلنگ یا بڑی مقدار میں منشیات رکھنے پر موت کی سزا دی جا سکتی ہے۔ یہ سزا زیادہ تر اس وقت دی جاتی ہے جب کسی شخص کو 50 گرام سے زیادہ ہیروئن، کوکین، یا دیگر منشیات کے ساتھ پکڑا جائے۔

طویل قید:

اگر کسی شخص کو منشیات کے ساتھ پکڑا جائے لیکن مقدار کم ہو، تو اس کے بدلے میں کئی سالوں کی قید ہو سکتی ہے۔ یہ قید کئی سالوں سے لے کر کئی دہائیوں تک ہو سکتی ہے، اور جیل کی حالت سخت ہوتی ہے۔

جرمانہ: کچھ صورتوں میں مجرم سے بھاری جرمانہ بھی وصول کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر اگر منشیات کی مقدار کم ہو یا یہ پہلی دفعہ ہو۔

سزاؤں کا نفاذ:

مملکت میں ان سزاؤں کو بہت سختی سے نافذ کیا جاتا ہے اور وہاں کے قوانین کے مطابق منشیات کے کاروبار میں ملوث افراد کو بہت کم موقع ملتا ہے۔ ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو فوری طور پر گرفتار کر لیا جاتا ہے، اور ان پر تیز رفتار ٹرائل کیا جاتا ہے۔ یہ ٹرائل عموماً عدالت میں ایک سے دو ہفتوں میں مکمل ہو جاتے ہیں، اور اس کے بعد سزا دی جاتی ہے۔

کمسن لڑکے کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم کو 3 بار سزائے موت کی سزا

مثال:

اگر کوئی شخص مملکت میں منشیات کے ساتھ پکڑا جائے، تو اس پر تیزی سے مقدمہ چلایا جاتا ہے اور فیصلہ جلدی کیا جاتا ہے۔ اکثر ملزمان کو عدالت سے موت کی سزا یا طویل قید کی سزا ملتی ہے۔

spot_imgspot_img