اسلام آباد : ذیابیطس ایک ایسی بیماری ہے جو دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو متاثر کر رہی ہے اور بہت سے مریض خون میں شوگر کی سطح کو متوازن رکھنے کے لیے ادویات کے ساتھ ساتھ گھریلو نسخے بھی آزمانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ قدرتی اجزا صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتے ہیں، تاہم انہیں باقاعدہ علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق جو کی گھاس (بارلی گراس) سے تیار کیا جانے والا سبز رس غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے، جس میں وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔
جو کی گھاس کا رس ’جو کے پودے‘ کی ٹہنیوں یا پتوں سے رس نکال کر بنایا جاتا ہے، پودے سے رس کو کولڈ پریس کے عمل کے ذریعے نکالا جاتا ہے جو پودے میں موجود غذائی اجزاء اور انزائمز کو محفوظ رکھتا ہے۔ جو کی گھاس کا رس اپنی بے پناہ غذائیت کی وجہ سے پچھلے کچھ سالوں سے مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔

یہ جسمانی صحت، وزن میں توازن اور عمومی غذائی ضروریات پوری کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اس بات کے سائنسی شواہد محدود ہیں کہ یہ ذیابیطس کا مکمل علاج کر سکتا ہے۔
اسی طرح دار چینی کا پانی بھی شوگر کے مریضوں میں مقبول گھریلو نسخہ سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دار چینی بعض افراد میں خون میں شوگر کی سطح کو بہتر رکھنے میں معاون ہو سکتی ہے، لیکن اس کے نتائج ہر مریض میں یکساں نہیں ہوتے، اس لیے اسے صرف ڈاکٹر کے مشورے کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔
میتھی کے دانے بھی ذیابیطس کے مریضوں میں روایتی طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ بعض طبی مطالعات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ میتھی کے استعمال سے خون میں شوگر کی سطح میں کچھ حد تک بہتری دیکھی گئی، تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس کا استعمال بھی ادویات چھوڑنے کا جواز نہیں بن سکتا۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے مریض متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق ادویات اور معمول کے طبی معائنے کو ترجیح دیں، جبکہ گھریلو نسخوں کو صرف معاون طریقہ سمجھیں، علاج کا مکمل متبادل نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ : مندرجہ بالا تحریر معالج کی عمومی رائے پر مبنی ہے، کسی بھی نسخے یا دوا کو ایک مستند معالج کے مشورے کا متبادل نہ سمجھا جائے۔



