spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

حیدرآباد : بیٹے کی موت پر دلبرداشتہ باپ کا اسپتال عملے کیخلاف بڑا اقدام

حیدرآباد : مریض کے علاج میں مبینہ غفلت برتنا اسپتال کے عملے کو مہنگا پڑگیا، بیٹے کی موت پر باپ نے اسپتال کے عملے کیخلاف مقدمہ درج کرا دیا۔

حیدرآباد کے سول اسپتال میں عملے کی مبینہ غفلت کے سبب ڈینگی کا مریض نوجوان جاں بحق ہوگیا تھا۔ علاج میں غفلت برتنے پراسپتال کے عملے کے خلاف مقدمہ کے اندراج کیلئے متوفی حسنین کا والد عدالت پہنچ گیا۔

فرسٹ ایڈیشنل سیشن جج نے پولیس کو سوال اسپتال کے عملے کیخلاد مقدمے کے اندراج کا حکم دے دیا، پولیس کے مطابق قدمے میں قتل کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقدمے میں ایم ایس سول اسپتال سمیت دیگر عملے میں میڈیکل رجسٹرار اور وارڈ میڈیکل ٹو کے عملہ کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔

والد عامر زرداری کی مدعیت میں درج ہونے والی ایف آئی آر کے متن کے مطابق سوال اسپتال میں متوفی حسنین 4 دن زیر علاج رہنے کے بعد22اکتوبر کو انتقال کرگیا تھا،

والد نے بتایا ہے کہ نامزد عملے نے نوجوان حسنین کے علاج میں کوتاہی برتی، اور بروقت علاج کی سہولت فراہم نہ کرنے سے بیٹے کی موت واقع ہوئی۔

قبل ازیں مقامی عدالت نے تھانہ مارکیٹ پولیس کو مدعی کا بیان ریکارڈ کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ قابل دست اندازی پولیس جرم بنتا ہے تو اس کے مطابق کارروائی کی جائے، پولیس سندھ ہیلتھ کئیر کمیشن سے معاونت حاصل کرے تاکہ تفتیش مکمل کی جاسکے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ ذمہ دار کا تعین نہ ہونے یا ٹھوس شواہد کی عدم موجودگی میں کوئی گرفتاری نہ کی جائے۔

ڈینگی سے جاں بحق نوجوان کے والد کی جانب سے عدالت میں داخل کی گئی درخواست میں ایم ایس سول اسپتال، میڈیکل وارڈ ٹو کے رجسٹرار، ڈیوٹی ڈاکٹرز کو فریق بنایا گیا تھا۔

درخواست گزار نے فریقین کیخلاف علاج میں غفلت پرایف آئی آر درج کرنے کی استدعا کی تھی،
درخواست گزار نے بتایا کہ بیٹے کو ڈینگی تشخیص پر سول اسپتال منتقل کیا تھا۔

ڈاکٹروں نے صبح 9 سے دوپہر 3 بجے تک بیٹے کا طبی معائنہ کیا اور نہ ہی ڈینگی وارڈ میں داخل کیا، بروقت طبی معائنہ نہ ہونے پر بیٹے کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی اور دم توڑ گیا۔

 

بیٹی کو کندھے پر اٹھا کر اسپتال لے جانے والی ماں لخت جگر کو نہ بچاسکی

spot_imgspot_img