spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

حکومت پنجاب کا لگژری اور بیش قیمت طیارہ : حقیقت کیا ہے؟

اسلام آباد : حکومت پنجاب کی جانب سے ایک لگژری طیارے کی خریداری کی خبروں کے معاملے پر کافی بحث ہو رہی ہے۔

طیارے کی خریداری کو اس وقت تقویت اور بھی زیادہ ملی جب اس طیارے کے حوالے سے حکومت پنجاب کا مؤقف سامنے آیا۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام سوال یہ ہے میں میزبان ماریہ میمن نے اس حوالے سے ایک رپورٹ پیش کی جس میں اس جہاز کی تیاری اور خریداری سے متعلق حقائق سے آگاہ کیا۔

ایوی ایشن ذرائع کے مطابق حکومت پنجاب نے جو طیارہ خریدا ہے اس کی امریکی رجسٹریشن این 144ایس کے حامل گلف اسٹریم جی 500جدید طیارے کی قیمت 10 ارب روپے ہے۔

فلائٹ ہسٹری کے مطابق 7 سال پرانا طیارہ نارتھ امریکا سے مصر کے راستے 28 دسمبر کو لاہور پہنچا تھا، طیارہ تقریباً 40 دن تک لاہور کے علامہ اقبال ایئر پورٹ پر گراؤنڈ رہا۔ اس کے بعد طیارے کی تزئین و آرائش کی گئی، طیارے نے پاکستان میں پہلی پرواز 6 فروری کو لاہور سے ملتان تک کی تھی۔

یہ گلف اسٹریم جی 500 لانگ رینج لگژری ایئر کرافٹ ہے جو سال2019 میں تیار کیا گیا اور یہ عام طور پر سربراہان مملکت اور کاروباری شخصیات استعمال کرتے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق اس طیارے نے 6 فروری سے مقامی طور پر پروازیں شروع کی ہیں اور اس نے زیادہ تر اپنے رجسٹریشن نمبر کے کال سائن سے پرواز کی تاہم 10 سے 12 فروری کے درمیان اس نے ’پنجاب ٹو‘ کے کال سائن سے لاہور سے کوئٹہ اور لاہور سے میانوالی کا سفر کیا۔اسی کال سائن سے اس نے دوبارہ 16فروری کو لاہور سے سیالکوٹ اور واپسی کا سفر کیا۔

گلف اسٹریم ایئر ویپسکی ویب سائٹ کے مطابق طیارہ ایک ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑتے ہوئے ایک ہی پرواز میں 8ہزار 334 کلومیٹر کا دفر طے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس میں 13 مسافروں کلے بیٹھنے کی گنجائش ہے جبکہ طویل روٹس کے دوران طیارے میں آرام بھی کرسکتے ہیں۔ ویب سائٹ کے مطابق نیا جی 500طیارہ ساڑھے 4 کروڑ ڈالر تک فروخت ہوتا ہے۔

ماریہ میمن نے اپنی رپورٹ میں ڈان نیوز کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس سے قبل 2016 میں بھی شہباز شریف حکومت نے طیارہ خریدنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا جس پر تنقید کے بعد ان کا مؤقف تھا کہ ہم ایک سیکنڈ ہینڈ اور سستا طیارہ لے کر حکومت پاکستان کا پیسہ بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دوسری جانب پنجاب کی ایک کڑوی حقیقت یہ بھی ہے کہ وہاں کے لوگ اس وقت غربت کی لکیر کی جانب دھکیلے جارہے ہیں۔ اور لوگوں کی بڑی تعداد گزشتہ دس سال کے دوران اپنے بجٹ پر قابو پانے کیلیے اپنے اخرجاات کم کرنے پر مجبور ہیں۔

یہاں تک کہ اپنے بچوں کی تعلیم کے اخراجات نہ ہونے پر ان کو اسکولوں سے اٹھا رہے ہیں۔ صوبے میں غربت کی شرح 11 سال کی بلند ترین سطح پر ہے۔ اس کے علاوہ آمدنی میں عدم مساوات کی بات کی جائے تو بھی 27سال کی بلند ترین سطح پر ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق غربت 4 سال مین 23فیصد بڑھی ہے۔ صرف پنجاب کی حد تک ایک کروڑ 11 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ 10 ارب روپے کے فنڈز تعلیم اور صحت سمیت متعدد شعبہ جات کو فراہم کیے جاسکتے تھے لیکن نہیں حکمرانوں کا کہنا ہے ہم اس سے ایک طیارہ ہی لیں گے، اس پر ستم یہ کہ حکومتی ترجمان اس اقدام کو ہر طرح تحفظ دینے کیلیے سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں۔

پنجاب حکومت کے قیمتی ترین لگژری طیارے کا اسرائیل سے کیا تعلق ہے؟ حیرت انگیز انکشاف

spot_imgspot_img