نام بھول جانا یادداشت میں دشواری کی ایک علامت ہوسکتی ہے، جس کی بڑی وجوہات میں عمر بڑھنا، ذہنی دباؤ، یا کسی بیماری جیسے بھولنے کی بیماری ہوسکتی ہے۔
دور حاضر کی بڑھتی ہوئی بیماری یادداشت یا حافظے کی کمزوری ہے جس میں انسان بار بار بھول جاتا ہے، جیسے کوئی چیز کہیں رکھ کر بھولنا، مقامات کا نام یا کسی کو وقت دے کر یاد نہ رہنا بلکہ اس کی شدید صورتوں میں اپنے بچوں تک کا نام بھول جانا شامل ہے۔
زیرنظر ویڈیو میں ڈاکٹر خالد جمیل اختر نے اس مرض سے متعلق اہم گفتگو کی اور اس کی علامات اور علاج کے حوالے سے آگاہ کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نوجوانی اور بڑھاپے میں کسی کا نام بھولنے کی دو علیحدہ وجوہات ہوتی ہیں، بڑی عمر میں ڈیمینشیا نامی بیماری ہوتی ہے جس میں دماغ سکڑ جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ پریشانی لاحق ہوتی ہے۔
دوسری جانب نوجوانوں میں ایسی کوئی بیماری نہیں ہوتی لیکن جو افراد زیادہ ذہنی تناؤ، کام کے دباؤ اور اپنی صلاحیت سے زیادہ کام کرتے ہیں اور پوری نیند کے ذریعے اپنے دماغ کو سکون و آرام نہیں دیتے ان میں نام بھولنے کی بیماری پائی جاتی ہے۔
اس کا علاج بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بیماری کے علاج کیلیے ضروری ہے کہ اپنی زندگی پرسکون انداز میں گزاریں ورزش کو معمول بنائیں غذا پر پوری توجہ دیں اور نیند پوری کریں، اور کام اتنا کریں جسے باآسانی پورا کرسکیں۔
یاد رکھیں !! اس مسئلے کو حل کرنے اور نام یاد کرنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کر سکتے ہیں، یا اگر مستقل مسئلہ بن جائے تو ڈاکٹر سے مشورہ لے سکتے ہیں۔



