spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

تقریباً ہر انسان میں موجود وائرس لوپس کی وجہ بن سکتا ہے، نئی تحقیق

ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ Epstein-Barr نامی وائرس، جو دنیا بھر میں تقریباً ہر بالغ انسان کے جسم میں پایا جاتا ہے، خطرناک خود مدافعتی بیماری سیسٹیمک لوپس ایریتیھمیٹوسس (لوپس) کا ممکنہ سبب بن سکتا ہے۔

طبی تحقیق سے متعلق ایک ویب سائٹ پر شائع رپورٹ کے مطابق سانفورڈ یونیورسٹی کے محققین نے اپنی تحقیق میں بتایا کہ یہ عام سا وائرس مدافعتی نظام کو گمراہ کر کے آٹو امیون بیماریوں کو جنم دے سکتا ہے۔

مطالعے کے دوران سائنسدانوں نے جدید سنگل سیل سیکوینسنگ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بی سیلز (B-cells) کا تفصیلی جائزہ لیا۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ لوپس کے مریضوں میں Epstein-Barr وائرس سے متاثرہ بی سیلز کی تعداد عام صحت مند افراد کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق لوپس کے مریضوں میں ایسے وائرس زدہ بی سیلز تقریباً 25 گنا زیادہ پائے گئے، جو بیماری اور وائرس کے درمیان مضبوط تعلق کی نشاندہی کرتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا کہ Epstein-Barr وائرس خلیات کے اندر جینیاتی نظام کو متاثر کرتا ہے۔ یہ وائرس خلیات کو EBNA2 نامی ایک خاص پروٹین بنانے پر مجبور کرتا ہے، جو ایسے جینز کو فعال کر دیتا ہے جو سوزش اور خود مدافعتی ردِعمل کو بڑھاتے ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں متاثرہ خلیات مدافعتی نظام کو حد سے زیادہ متحرک کر دیتے ہیں، جس سے جسم اپنے ہی ٹشوز پر حملہ شروع کر دیتا ہے، اور یوں لوپس جیسی بیماری جنم لیتی ہے۔

محققین نے عندیہ دیا ہے کہ یہی حیاتیاتی میکانزم دیگر آٹو امیون بیماریوں، جیسے ملٹیپل اسکلیرسس اور آرتھرائٹس میں بھی کردار ادا کر سکتا ہے، جس پر مزید تحقیق جاری ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں آٹو امیون بیماریوں کی تشخیص اور علاج کے نئے راستے کھول سکتی ہے۔

لوپس کیا ہے؟

یہ ایک دائمی (Chronic)بیماری ہے، جس کے بارے میں ابھی تک نہ تو یہ معلوم ہوسکا ہے کہ یہ کیوں ہوتی ہے اور نہ ہی اس کا ابھی تک کوئی علاج دریافت ہوسکا ہے۔

دائمی بیماری سے مراد ایسا مرض ہے، جو 6ہفتوں سے زیادہ اور اکثر کیسز میں برسوں متاثرہ شخص کو اپنی لپیٹ میں لیے رکھے۔

لوپس، انسان کے مدافعتی نظام کی اس صلاحیت کو ختم کردیتی ہے، جس کے تحت وہ وائرس بیکٹیریا اور جرثوموں (بہ الفاظِ دیگر بیرونی حملہ آوروں جیسے فِلو) سے لڑتا ہے اور جسمانی صحت کو برقرار رکھتا ہے۔

spot_imgspot_img