spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

بھوک وزن کم اورپیٹ میں جلن : کہیں آپ کو السر تو نہیں؟ علامات خود چیک کریں

پیٹ یا معدے کا السر، جسے پیپٹک یا گیسٹرک السر بھی کہا جاتا ہے، ایک ایسی حالت ہے جس میں معدے یا چھوٹی آنت کی اندرونی جھلی پر زخم بن جاتا ہے۔

یہ زخم عام طور پر ہیلیکوبیکٹر پائلوری بیکٹیریا یا درد کش ادویات کے طویل استعمال سے پیدا ہوتا ہے، اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔

السر کی اہم وجوہات

اسپرین، آئبوپروفین وغیرہ کا زیادہ استعمال معدے کی حفاظتی جھلی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ مرچ مسالے دار یا جنک فوڈ کا زیادہ استعمال اور ذہنی دباؤ معدے میں تیزاب کی پیداوار بڑھا دیتا ہے۔

الکحل اور تمباکو نوشی دونوں معدے کی دیوار کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ہیلیکو بیکٹر پائلوری بیکٹیریا معدے کی چپچپا جھلی کو متاثر کرکے تیزاب کو اندر تک پہنچنے دیتا ہے۔

السر کی نمایاں علامات

پیٹ میں جلن یا درد، خاص طور پر کھانے کے بعد یا خالی پیٹ۔ تیزابیت، ڈکاریں اور سینے میں جلن۔ متلی یا الٹی کا احساس۔ بھوک میں کمی اور وزن میں تیزی سے کمی اس کی ام علامات ہیں۔اس کے علاوہ بالکل سیاہ یا خونی پاخانہ اس کی سب سے خطرناک علامت ہے۔

بچاؤ کے آسان طریقے

ہلکی اور کم مسالہ دار غذا کھائیں۔ ذہنی دباؤ کم کرنے کے لیے یوگا یا مراقبہ کریں۔ الکحل اور تمباکو نوشی سے پرہیز کریں۔ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر درد کش ادویات استعمال نہ کریں۔

اگر پیٹ میں شدید درد، خون کی الٹی، یا پاخانے میں خون نظر آئے تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں کیونکہ یہ السر کی سنگین حالت ہوسکتی ہے۔

 

spot_imgspot_img