اسلام آباد (18 دسمبر 2025): دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا میں بونڈی بیچ حملے سے پاکستان کو جوڑنا افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ ہے، پاکستان ہر قسم کی دہشتگردی کی واضح الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔
اے پی پی کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے پریس بریفنگ میں کہا کہ بھارتی میڈیا نے واقعہ پر غلط معلومات اور پروپیگنڈا پھیلایا تاہم بعد میں حملہ آور بھارتی نژاد اور بھارت کا پاسپورٹ ہولڈر نکلا۔
ترجمان نے کہا کہ ایک پاکستانی کا نام اور تصویر بغیر تصدیق میڈیا پر دکھائی گئی، غلط رپورٹنگ سے ایک بے گناہ فرد اور اس کے خاندان کو خطرات لاحق ہوئے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اس بارے میں غلط رپورٹنگ سے بھارتی میڈیا کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے، بھارتی میڈیا کو ذمہ دارانہ اور پیشہ ورانہ رویہ اپنانا چاہیے۔
ترجمان نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے درمیان ملاقات کے بارے میں بھارتی میڈیا کے بے بنیاد پروپیگنڈے کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقات بہت نتیجہ خیز اور مثبت رہی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت کیلیے پاکستان کی فضائی حدود کی بندش دونوں ممالک کے تعلقات کی عکاسی کرتی ہے، پاکستان کے خلاف دھمکیاں اور بھارتی سینئر قیادت کے پاکستان کے خلاف جارحیت کی ایک اور لہر کے بیانات جیسے عوامل فضائی حدود کی بندش کا سبب بنے۔
افغانستان کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹ کے متعلق ترجمان نے کہا کہ دستاویز نے پاکستان کے اس موقف کی تصدیق کی ہے کہ افغانستان میں دہشتگرد عناصر کی موجودگی خطے کے امن اور سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ رپورٹ نے پاکستان کے اس موقف کی بھی توثیق کی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی ترقی میں حائل بڑی رکاوٹیں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، سرحد کی بندش اور تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹیں دہشت گرد عناصر کی موجودگی سے جڑی ہوئی ہیں۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاک افغان جنگ بندی کا مقصد افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردوں کے حملوں کو روکنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغان جانب سے حملے جاری رہنے کے باعث جنگ بندی برقرار نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں انسانی امداد کی ترسیل میں کوئی رکاوٹ نہیں جس میں ادویات بھی شامل ہیں، حال ہی میں کھیپ کی اجازت دی گئی اور یہ طالبان حکومت پر منحصر ہے کہ وہ اسے قبول کرے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گرد عناصر کی موجودگی کے ٹھوس شواہد موجود ہیں، دہشت گردوں کو افغان سرزمین پر معاونت ملنے کے بھی قابل اعتماد شواہد ہیں۔
ترجمان نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کے ترکمانستان کے حالیہ دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امن اور اعتماد پر بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کی اور ترکمانستان، ترکیہ، روس اور ایران کے رہنمائوں سے ملاقات کی۔
ترجمان نے کہا کہ دورے کے دوران نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے ایران، کرغزستان، عمان، ترکیہ، تاجکستان اور ازبکستان کے ہم منصبوں کے علاوہ اقتصادی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل سے بھی ملاقات کی۔



