عمر بڑھنا ایک قدرتی حیاتیاتی عمل ہے جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے، جسم کی مرمت اور خلیوں کی تبدیلی کی صلاحیت کم ہوتی جاتی ہے۔
اسی ترتیب سے جس میں جسم کے خلیے آہستہ آہستہ کمزور یا ناکارہ ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیں بڑھاپا روکا نہیں جاسکتا لیکن اس کے آنے کی رفتار کم ضرور کی جاسکتی ہے۔
بڑھاپے کی علامات
سب سے نمایاں تبدیلیاں جھریوں والی جلد، سفید بال، اور عمر کے دھبے ہیں۔ اندرونی طور پر عضلات، ہڈیاں اور دماغی خلیات بھی متاثر ہوتے ہیں۔ وقت کے ساتھ دماغ میں نیوران کا رابطہ کمزور پڑ جاتا ہے جس سے یادداشت اور توجہ متاثر ہوتی ہے۔
عمر کے ساتھ کارٹلیج نرم ہو جاتا ہے، جس سے ناک اور کان بڑے لگنے لگتے ہیں، ہڈیاں اور پٹھے کمزور ہوتے ہیں، جس سے قد اور طاقت میں کمی آتی ہے۔
سماعت اور بصارت پر اثرات
عمر کے ساتھ سماعت اور بینائی کمزور ہونا عام ہے۔ اندرونی کان کے خلیات متاثر ہوتے ہیں جبکہ آنکھ کا لینس سخت اور ابر آلود ہو جاتا ہے، جس سے موتیابند اور پریسبیوپیا (قریب کی چیزیں دیکھنے میں دشواری) پیدا ہو سکتی ہے۔
بڑھاپے کو تیز کرنے والی عادتیں
سورج کی تیز شعاعیں، آلودگی، ای سگریٹ اور ناقص غذا جھریوں اور خلیاتی نقصان کو تیز کر دیتی ہیں۔ یہ عوامل جلد سے کولیجن کم کرتے ہیں جس سے چہرے پر جلد ڈھلکنے لگتی ہے۔
عمر بڑھنے کے اہم مراحل
تحقیقات کے مطابق بڑھاپا دو اہم ادوار میں تیز ہوتا ہے: 44 سال اور 60 سال کی عمر کے قریب۔ 60 سال کے بعد مدافعتی نظام کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے اور بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
عمر بڑھنے کو سست کرنے کے طریقے
اگرچہ بڑھاپا روکا نہیں جا سکتا، مگر اس کی رفتار کم کی جا سکتی ہے۔ باقاعدہ ایروبک ورزش (دوڑنا، تیراکی) صحت مند غذا (سبزیاں، پھل، پروٹین، سالم اناج) مناسب نیند اور ذہنی سکون یہ سب عوامل جسم کو متحرک اور دل کو صحت مند رکھتے ہیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انسانی عمر کی حد تقریباً 150 سال تک ہو سکتی ہے، لیکن اس تک پہنچنے کے لیے صحت مند طرزِ زندگی بے حد ضروری ہے۔



