spot_img

ذات صلة

جمع

امریکی فوج نے ایران پر حملے شروع کردیے

واشنگٹن (10 جون 2026) : آبنائے ہرمز کے قریب...

پاپا رازی کی کیا حقیقت ہے؟ حیران کن کہانی سامنے آگئی

پاپا رازی (Paparazzi)کسی ایک شخص کو نہیں بلکہ ان...

بے رحم شخص کا اونٹنی پر تشدد، دونوں آنکھیں نکال لیں

تھرپارکر : اندرون سندھ کے شہر تھرپارکر میں اونٹنی...

جھانوی کپور نے ’پیڈی‘ کے لیے کتنا معاوضہ لیا؟

بالی ووڈ اداکارہ جھانوی کپور کی فلم ’پیڈی‘ میں...

بجٹ 2026-27 : معیشت کی بہتری کیسے ممکن ہے؟ ماہرین نے بتا دیا

کراچی : نیا بجٹ آنے والا ہے اور اس بار پاکستان کو صرف نئے ٹیکس لگانے والا نہیں بلکہ ایسا بجٹ چاہیے جو ملکی معیشت کو بھی بہتری کی جانب گامزن کرے۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام آن مائی راڈار کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں سابق وفاقی سیکریٹری تجارت یونس ڈھاگا اور پاکستان بزنس کونسل کے چیف ایگزیکٹو جاوید قریشی نے بجٹ، معیشت، موجودہ ٹیکس نظام، آئی ایم ایف پالیسیوں اور معاشی چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی۔

ٹیکسز میں اضافہ

ان کا کہنا تھا کہ حکومت ہر بار ٹیکسز میں اضافہ کردیتی ہے لیکن اس سے کاروبار اور تنخواہ دار طبقہ مزید دباؤ میں آجاتا ہے، جس کا براہ راست اثر ملکی معیشت پر پڑتا ہے۔

بھاری ٹیکسز سے پریشان پاکستانی سرمایہ کار اور آئی ٹی ماہرین بیرون ملک منتقل ہونے لگے ہیں جنہیں روکنے کیلیے روایتی نہیں بلکہ ’آؤٹ آف دی باکس‘بجٹ کی ضرورت ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں کئی دہائیوں سے ایک ہی طرز کی مالیاتی پالیسی اپنائی جارہی ہے، جس کے تحت ریونیو کم ہونے پر نئے ٹیکسز لگا دیے جاتے ہیں جبکہ پہلے سے ٹیکس دینے والے شعبوں پر مزید بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں یونس ڈھاگا نے کہا کہ اس وقت کارپوریٹ سیکٹر پر مجموعی ٹیکس بوجھ 64فیصد سے تجاوز کرچکا ہے جبکہ تنخواہ دار طبقہ بھی تقریباً 38.5 فیصد تک ٹیکس ادا کررہا ہے۔

بڑے شعبے ٹیکس نیٹ سے باہر کیوں؟ 

انہوں نے بتایا کہ ملک کی 24 کروڑ آبادی میں صرف 59 لاکھ افراد ٹیکس فائلرز ہیں یعنی صرف 2.2فیصد آبادی پورے مالیاتی نظام کا بوجھ اٹھا رہی ہے۔ دوسری جانب زراعت، ریئل اسٹیٹ، ریٹیل اور سروسز جیسے بڑے شعبے مؤثر ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔

یونس ڈھاگا نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت معاشی وژن کا فقدان ہے اور بجٹ محض آئی ایم ایف کی ہدایات کے مطابق ترتیب دیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت اگر این ایف سی ایوارڈ، سبسڈیز اور سودی ادائیگیوں کے نظام پر نظرثانی کرے تو ہزاروں ارب روپے کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور کم آمدنی والے صارفین کو دی جانے والی بعض سبسڈیز صوبوں کے سپرد کی جاسکتی ہیں، جس سے وفاقی حکومت پر مالی دباؤ کم ہوگا۔

کراچی میں ترقیاتی منصوبے ناگزیر 

کراچی سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ کراچی میں کے فور منصوبہ اور ماس ٹرانزٹ پروگرام جیسے منصوبے شہر کی ضرورت ہیں۔ اگر ان منصوبوں پر سنجیدگی سے کام کیا جائے تو نہ صرف روزگار بڑھے گا بلکہ معیشت کو بھی فائدہ ہوگا۔

سابق وفاقی سیکریٹری تجارت یونس ڈھاگا نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ شرح سود کم کرے، سرمایہ کاروں کو سہولیات دے اور ایسے منصوبوں پر سرمایہ لگائے جو معیشت کو مضبوط کریں۔

معاشی ماہرین کے مطابق اگر حکومت نے ٹیکس اصلاحات، شرح سود میں توازن اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں پر فوری توجہ نہ دی تو معیشت مزید سست روی اور غیر دستاویزی نظام کی طرف بڑھ سکتی ہے۔

spot_imgspot_img