spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

بارانِ رحمت کیلئے سعودی عرب میں نماز استسقا کا اعلان

خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز کی خصوصی ہدایت پر مکہ اور مدینہ سمیت سعودی عرب کے مختلف شہروں میں بارش کیلئے نماز استسقا ادا کی جائے گی۔

شاہی دیوان کی جانب سے نماز استسقا کا اعلان کیا گیا ہے جس کے مطابق خادم حرمین شریفین کی ہدایت پر جمعرات 22 جمادی الاول کو ملک بھر میں نماز استسقا ادا کی جائے گی۔

سعودی شاہی دیوان کا کہنا ہے کہ عوام توبہ و استغفار کریں، صدقہ، نماز، ذکرالہیٰ میں کثرت کریں، لوگوں کےلیے آسانیاں پیدا کریں۔

سعودی رائل کورٹ کے بیان کے مطابق بارش جیسی رحمت کے حصول کے لیے نماز استسقا سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔

نماز استسقاء کے احکام اور مسائل

انسان کی ایک بڑی ضرورت پانی ہے، اگر لوگ قحط سے دوچار ہوجائیں تو اور بارش نہ ہورہی ہو تو نبی کریم ﷺ نے اس موقع کے لئے مخصوص نماز ’’استسقاء‘‘ ادا کرنے کا حکم دیا اور خود بھی نماز باجماعت ادا کی۔

جب نہریں خشک ہوجائیں، انسان و حیوان کے پینے کی ضرورت نیز کاشت کی ضرورت کے لئے پانی میسر نہ ہو یا پانی ہو مگر ناکافی ہو تو ایسی صورت میں استسقاء مسنون ہے۔ جس کا حکم اللہ کے نبی ﷺ نے اصحاب کو دیا اور اپنی اقتدا میں نماز پڑھوائی۔

نماز استسقاء کے اصل معنی پانی طلب کرنے کے ہیں، اس لئے پانی کے واسطے کی جانے والی دعاء اور نماز دونوں کو استسقاء کہتے ہیں، رسول اللہ ﷺ سے جمعہ کے دن خطبہ میں بارش کی دعا پر اکتفاء کرنا بھی ثابت ہے اور دو رکعت نمازِ استسقاء پڑھنا بھی، اسی لئے امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک دونوں باتوں کی گنجائش ہے، یہ بھی کہ دعا پر اکتفاء کیا جائے اور یہ بھی کہ باضابطہ نماز ادا کی جائے۔

spot_imgspot_img