قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کھلاڑی یاسر حمید نے کہا ہے کہ ایشیاء کپ میں بابر اعظم کی موجودگی ٹیم کیلیے بہت فائدہ مند ہوسکتی تھی۔
یہ بات انہوں نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام اسپورٹس روم میں میزبان نجیب الحسنین سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
ایک سوال کہ جب بابر اعظم کو ٹیم میں واپس ہی لانا تھا تو ان کو نکالا کیوں گیا؟ اس کے جواب میں یاسر حمید نے کہا کہ پوری دنیا بابر اعظم کو بڑا کھلاڑی مانتی ہے اور اس کا ثبوت انہوں نے گزشتہ ٹیسٹ میچ میں دیا۔ بابر کو ٹیم میں واپس لانے کا مشورہ چاہے کسی نے بھی دیا ہو یہ بہت اچھا فیصلہ ہے۔
قومی ٹیم کی کپتانی سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ایشیا کپ میں سلمان علی آغا کے بحیثیت کپتان بڑے اور اہم فیصلے نظر نہیں آئے، بھارت کیخلاف تین میچ ہارے جو ناقابل قبول ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پی سی بی نے شاید اسی لیے شاہین شاہ آفریدی کو کپتانی سونپی ہے۔
بابر اعظم کی ٹیم میں جگہ کیسے بنی؟
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک بیسن نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بابر اعظم کی ٹی 20 اسکواڈ میں واپسی سے متعلق حکمت عملی سے پردہ اٹھا دیا تھا ۔
انہوں نے کہا تھا کہ بابر اعظم کی واپسی ایک واضح ٹیم پلان کے تحت ہوئی ہے، فخر زمان نے ٹی 20 کرکٹ سے وقتی طور پر وقفہ لینے کی درخواست کی تھی تاکہ وہ ون ڈے فارمیٹ پر توجہ دے سکیں۔
مزید پڑھیں : بابراعظم ٹی20 میں کس نمبر پر بیٹنگ کریں گے؟َ
اس فیصلے کے بعد ایک ٹاپ آرڈر پوزیشن خالی ہوئی جس سے بابراعظم کے لیے ٹیم میں دوبارہ جگہ بنانا ممکن ہوا، یہ فیصلہ مکمل طور پر ٹیم کی ضرورت کے مطابق ہے۔



