اسلام آباد : وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ صوبوں کے ساتھ این ایف سی سے ہٹ کر اریجمنٹ کی گئی ہے، این ایف سی سے متعلق جو بھی فیصلہ ہوگا مشاورت اور اتفاق رائے سے ہوگا۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام اعتراض ہے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبوں نے مدد کے لیے حامی بھری جس پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
این ایف سی کے حوالے سے صوبوں سے مشاورت اور اتفاق کے بغیر کوئی کام نہیں ہوسکتا جو بھی فیصلہ ہوگا مشاورت اور اتفاق رائے سے ہوگا۔
وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ دو بارڈرز اس وقت ایکٹیو ہیں، اس کامیاب بجٹ پر وزیراعظم شہباز شریف کے وژن کو کریڈٹ دیتا ہوں، انہوں نے بہت رہنمائی کی اور بھرپور تعاون کیا ہے، بجٹ سے پہلے اتحادیوں، صوبوں اور آئی ایم ایف کو اعتماد میں لیا گیا۔
ایک سوال کے جواب میں محمد اورنگزیب نے بتایا کہ ہم نے ریونیو کلیکشن 7 ٹریلین سے شروع کی تھی اس جون میں 13 ٹریلین تک پہنچیں گے، ٹیکس کلیکشن کا جو ٹارگٹ ہم نے رکھا ہے اس کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ اس بجٹ میں ہم نے نئے ٹیکسز کی بات نہیں کی، انفورسمنٹ کی بات کی ہے، پہلے نئے ٹیکسز کی بات اس لیے کی جاتی تھی کہ انفورسمنٹ پر کام نہیں ہوتا تھا۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ بجٹ میں کیے گئے اقدامات وہ ٹارگٹڈ اور منصوبہ بندی کے مطابق ہیں، وزیراعظم نے ہدایت کی تھی کہ ایکسپورٹرز پر سپر ٹیکس ختم کردیں، بجٹ میں ٹیکسیشن، انرجی، فنانسنگ سے متعلق پورا پیکج دیا گیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ نچلی سطح کے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسز کا بوجھ کم کیا گیا، تنخواہ دار طبقے کی سب سے بڑی سلیب پر سرچارج کو ختم کیا گیا، بجٹ سے پہلے اتحادیوں اور صوبوں کے ساتھ بات چیت کی گئی۔



