واشنگٹن (5 فروری 2026): امریکا اور روس نے ابوظہبی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد اعلیٰ سطحی فوجی رابطوں کو دوبارہ بحال کرنے پر اتفاق کر لیا۔
فوجی رابطے بحال کرنے کے اقدام کو امریکا اور روس کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی جانب ایک اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ واشنگٹن نے یوکرین پر روسی حملے سے عین قبل ماسکو کے ساتھ فوجی سطح کے مواصلاتی رابطے منقطع کر دیے تھے۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق امریکی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ اس طریقہ کار کو دوبارہ بحال کرنے کا مقصد دونوں اطراف سے کسی بھی غلط فہمی اور کشیدگی میں اضافے سے بچنا ہے۔
امریکی فوج نے کہا کہ فوجی سطح پر مذاکرات کو برقرار رکھنا عالمی استحکام اور امن کیلیے ایک اہم عنصر ہے، یہ شفافیت میں اضافے اور کشیدگی کم کرنے کا ایک ذریعہ بھی فراہم کرتا ہے۔
واضح رہے کہ فوجی رابطوں کی بحالی امریکی یورپی کمانڈ کے کمانڈر جنرل الیکسس گرنکیوچ کی جانب سے ابوظہبی میں اعلیٰ روسی اور یوکرینی فوجی حکام کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد سامنے آئی۔
امریکا اور روس کے درمیان اعلیٰ سطحی فوجی مذاکرات کی معطلی کے باوجود دونوں ممالک نے ہنگامی حالات کیلیے ایک ڈی کنفلیکشن لائن کو برقرار رکھا ہوا تھا۔
اس کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن بھی کئی مواقع پر براہِ راست ایک دوسرے سے فون پر بات کر چکے ہیں۔



