شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار اسد صدیقی کا کہنا ہے کہ والدین کو 7 سال سے قبل بچوں کو اسکول نہیں بھیجنا چاہیے۔
اداکار اسد صدیقی نے اداکارہ زارا نور عباس سے شادی کی اور ان کی ایک بیٹی ہے جس کا نام جوڑے نے نور جہاں رکھا اور ننھی بیٹی کی عمر ڈیڑھ سال ہے۔
اہلیہ کے شو میں اسد صدیقی نے والدین کے بچوں کو کم عمری میں اسکول بھیجنے کے رجحان پر بات کی۔
زارا نور نے سوال کیا کہ ہم نور جہاں کو اسکول میں داخل کیوں نہیں کررہے؟
جواب میں اداکار نے کہا کہ ابھی نور جہاں کی عمر صرف ڈیڑھ سال ہے اور اس عمر میں بچے کو اسکول میں کون داخل کرواتا ہے، صرف بے وقوف لوگ ایسا کرتے ہیں، بچوں کو اسکول بھیجنے کے لیے چار سال کی عمر بھی ناسب نہیں پانچ سال بھی صحیح عمر نہیں ہے۔
یہ پڑھیں: بیٹے کی خواہش تھی لیکن ’نورِ جہاں‘ بھی میرا بیٹا ہی ہے، اسد صدیقی
انہوں نے کہا کہ اسکول کے یہ سارے نظام پیسہ کمانے کی مشینیں ہیں، والدین سے زیادہ بچے کی مدد کون کرسکتا ہے جو جبکہ اسکول صرف پیسے پر توجہ دیتے ہیں، فن لینڈ میں آپ کو سات سال کی عمر سے پہلے اسکول جانے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ یہ سائنسی طور پر ثابت شدہ عمر ہے۔
اداکار نے کہا کہ بچے اتنے نازک ہوتے ہیں کہ ان کی ہڈیاں پانچ سال کی عمر میں بھی نہیں بنتیں، یہ کہا جاتا ہے کہ اپنے بچوں کو اپنے قریب رکھیں اور انہیں خود پڑھائیں۔



