معاشی تھنک ٹینک ایکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ نے بلند شرح سود پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک کی پالیسیوں کی وجہ سے حکومت کو قرض کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے اور پرائیویٹ سیکٹر سکڑ رہا ہے جس کے باعث حکومت کو سے بھاری ٹیکسز لگانے پڑ رہے ہیں۔
معاشی تھنک ٹینک ایکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ نے پاکستان میں بلند شرح سود پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک نے جنوری 2025 سے اب تک شرح سود میں صرف ایک فیصد کمی کی ہے سالانہ اوسط ریئیل انٹرسٹ ریٹ 8.5 فیصد کے قریب رہا ہے بلند شرح سود کی وجہ سے کاروباری لاگت بڑھ رہی ہے اس دوران بینکوں کو 3 ٹریلین روپے کی اضافی ادائیگیاں کی گئی اسٹیٹ بینک کی پالیسی کی وجہ سے حکومت کو قرض کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے ان پالیسیوں کی وجہ سے پرائیویٹ سیکٹر سکڑ رہا ہے مانیٹری پالیسی کے فیصلے کی وجہ سے بھاری ٹیکسز لگائے جا رہے ہیں معاشی شرح نمو سست ہو رہی ہے ملک پر قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔
ای پی بی ڈی کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے جس کے باعث ریئیل انٹرسٹ ریٹ میں کمی ہوئی ہے ۔ مہنگائی کی شرح 6.2 فیصد پہنچنے کے باوجود شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا گیا ہے۔
اس سے قبل جب مہنگائی 0.3 فیصد سے 5 فیصد تک تھی تب بھی شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا گیا ، شرح سود اور مہنگائی میں کوئی ہم آہنگی نظر نہیں آ رہی۔



