spot_img

ذات صلة

جمع

امریکی فوج نے ایران پر حملے شروع کردیے

واشنگٹن (10 جون 2026) : آبنائے ہرمز کے قریب...

پاپا رازی کی کیا حقیقت ہے؟ حیران کن کہانی سامنے آگئی

پاپا رازی (Paparazzi)کسی ایک شخص کو نہیں بلکہ ان...

بے رحم شخص کا اونٹنی پر تشدد، دونوں آنکھیں نکال لیں

تھرپارکر : اندرون سندھ کے شہر تھرپارکر میں اونٹنی...

جھانوی کپور نے ’پیڈی‘ کے لیے کتنا معاوضہ لیا؟

بالی ووڈ اداکارہ جھانوی کپور کی فلم ’پیڈی‘ میں...

آم شوق سے کھانے والے یہ جان لیوا غلطی ہر گز نہ کریں؟

پھلوں کے بادشاہ آم شوق سے کھانے والے یہ جان لیوا غلطی ہر گز نہ کریں۔

گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی لوگوں کا پسندیدہ پھل آم مارکیٹ میں دستیاب ہے اور شوقین افراد اس پھل کو خرید بھی کررہے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی کھلا رہے ہیں۔

آم کے کھانے میں ایک خطرہ بھی جو خاموشی سے آپ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

ماہرین نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ مارکیٹ میں دستیاب بعض آم قدرتی طور پر نہیں بلکہ مصنوعی طریقے سے پکائے جاتے ہیں، اس مقصد کے لیے خطرناک کیمیکل کاربائیڈ استعمال کیا جاتا ہے جو انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

یہ کیمیکل نمی کے ساتھ مل ایسی گیس پیدا کرتا ہے جو آم کو جلد پکانے میں مدد دیتی ہے لیکن اس کے ساتھ آسکنک اور فاسفورس جیسے زہریلے عناصر بھی شامل ہوسکتے ہیں یہی معدے انسان کے جسم میں داخل ہوکر معدے سانس، اعصابی نظام پر سنگین خطرناک مرتب کرسکتے ہیں۔

یہ پڑھیں: امسال ملک میں آم کی پیدوار کتنی ہو گی؟

ایسے آم کھانے سے پیٹ کی بیماریاں، سانس لینے میں دشواری، سردرد اور طویل المدتی اعصابی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

فوڈ اتھارٹی نے بھی شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ آم خریدتے وقت چند باتوں پر خیال رکھا جائے، اگر آم پر غیرمعمولی چمک ہو، بہت زیادہ شوخ ہوں یا اس میں کیمیکل جیسی تیز بو محسوس ہو تو ایسے پھل سے فوری پرہیز کرنا چاہیے۔

قدرتی طور پر پکے ہوئے آم عموماً نرم، خوشبو دار اور یکساں رنگ کے ہوتے ہیں۔

نوٹ: یہ معلومات ماہرین کی رائے پر مبنی ہے لہٰذا مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد آم کھانے سے قبل اپنے ذاتی معالج سے رجوع کریں۔

spot_imgspot_img