گوہاٹی : آسام کے وزیرِ اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما کے مسلمانوں سے متعلق حالیہ بیانات کے خلاف 40 سے زائد اہم شخصیات نے گوہاٹی ہائیکورٹ سے ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
درخواست گزاروں کا مشترکہ مؤقف ہے کہ آئینی منصب پر فائز کسی بھی عہدیدار کی جانب سے اس نوعیت کی زبان سماجی ہم آہنگی اور آئینی اقدار کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔
ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اشوتوش کمار کے نام پیش کیے گئے کھلے خط پر دانشوروں، ماہرین تعلیم، صحافیوں، ادیبوں اور سماجی کارکنوں کے 40 سے زائد دستخط موجود ہیں۔س خط میں وزیرِ اعلیٰ کے متعدد عوامی بیانات کو آئین ہند اور بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ آئین کی مبینہ خلاف ورزیوں پر خاموشی یا بے عملی خود آئین کی اخلاقی بالا دستی کو کمزور کرسکتی ہے، اس لیے عدالت کا کردار نہایت اہم ہے۔
5فروری 2026 کو جاری کیے گئے اس کھلے خط میں وزیر اعلیٰ کی جانب سے بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح ’’میاں‘‘ کو تحقیر آمیز قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حالیہ تقاریر میں ایسے عناصر پائے جاتے ہیں جو نفرت انگیزی، انتظامی دباؤ اور ایک مخصوص کمیونٹی کی تذلیل کے مترادف ہیں۔
دستخط کنندگان کے مطابق یہ بیانات محض سیاسی بیان بازی تک محدود نہیں رہے بلکہ ان حدود کو چھو رہے ہیں جنہیں آئین شہریوں کو اجتماعی تحقیر اور ہراسانی سے بچانے کے لیے متعین کرتا ہے۔
خط میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ یہ برادری گزشتہ ایک صدی سے زائد عرصے سے آسامی زبان اور ثقافت کو اپنا کر آسام کی سماجی ساخت کا حصہ بنی ہوئی ہے۔
درخواست میں خاص طور پر ان بیانات کا حوالہ دیا گیا ہے جن میں مسلمانوں کے خلاف سماجی اور معاشی امتیاز یا بائیکاٹ کی بات کی گئی ہے۔ درخواست گزاروں نے کہا کہ اگر ایسی باتیں ریاست کے سربراہ کی طرف سے آئیں تو وہ قانون کے سامنے برابری، باعزت زندگی اور بھائی چارے جیسی آئینی ضمانتوں پر سوال اٹھاتی ہیں۔



