spot_img

ذات صلة

جمع

امریکا ایران مذاکرات کا دوسرا دور، جڑواں شہروں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ

اسلام آباد (19 اپریل 2026): امریکا ایران مذاکرات کے...

آبنائے ہرمز کی بندش : کیا جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے؟

اسلام آباد : ایران نے اہم عالمی گزرگاہ آبنائے...

جرمنی میں پاکستانیوں کے لیے ملازمت کا نیا طریقہ

اسلام آباد : جرمنی میں ملازمت کے مواقع تک...

مارکیٹوں سے ہزاروں ’بے بی فوڈ جارز‘ کیوں واپس منگوا لیے گئے؟

جنیوا : آسٹریا میں حفاظتی نکتہ نظر کے تحت...

منکی پاکس صرف بچوں کو ہی نہیں ہوتا، علامات اور علاج

منکی پاکس ایک ایسا وائرس ہے، جس کے نتیجے...

آبنائے ہرمز کی بندش : کیا جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے؟

اسلام آباد : ایران نے اہم عالمی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کردیا ہے جس کے سبب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرتی جارہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق لبنان میں اسرائیلی حملے دوبارہ شروع ہوگئے، ایران نے پاکستانی وقت کے مطابق شام تقریباً سوا پانچ بجے آبنائے ہرمز کو بند کیا، جس کے بعد تجارتی جہازوں کی آمدورفت معطل ہوگئی ہے۔

ترجمان خاتم الانبیاء سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت مکمل ایرانی کنٹرول میں ہے اور اس کی صورتحال میں کوئی نرمی نہیں آئی۔

انہوں نے واضح طور پر کہا کہ جب تک امریکہ ایران آنے اور جانے والے جہازوں کی مکمل آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی نہیں بناتا، اس اہم گزرگاہ پر سخت کنٹرول برقرار رکھا جائے گا۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ ایام میں آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو تجارتی بحری جہازوں پر فائرنگ کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔

ماریہ میمن کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متضاد بیانات بھی صورتحال کو پیچیدہ بنا رہے ہیں کیونکہ اپنے پہلے بیان میں انہوں نے آبنائے ہرمز کے کھلنے کو دنیا کے لیے ’بہترین دن‘قرار دیا، تاہم ساتھ ہی امریکی بحری ناکہ بندی برقرار رکھنے کا عندیہ بھی دیا۔

دوسری جانب لبنان میں اعلان کردہ جنگ بندی پر بھی مکمل عمل درآمد نہ ہو سکا اور اسرائیل کی جانب سے مبینہ خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ اگرچہ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے اسرائیل کو حملے روکنے کی ہدایت دی ہے تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا نیا دور بھی فی الحال غیر یقینی کا شکار نظر آتا ہے۔

اگرچہ ابتدائی اطلاعات میں پیر کو مذاکرات کی بات کی گئی تھی، تاہم حکومتی ذرائع نے اس کی تردید کرتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ ممکنہ طور پر مذکورہ مذاکرات ہفتے کے آخر میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ واشنگٹن میں ایک اہم شخصیت کی آمد متوقع ہے، جس کے ساتھ جلد پریس کانفرنس بھی کی جاسکتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے پاکستان کے ممکنہ دورے کا بھی عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دوران پاکستان کا کردار بہت اچھا رہا ہے میں وہاں جاسکتا ہوں۔

ماریہ میمن کا کہنا ہے کہ دیکھنا ہوگا کہ اس صورتحال میں دونوں ملکوں کے درمیان مذکرات کب سے شروع ہوتے ہیں یا کیا معاہدہ طے پاتا ہے؟ یعنی کیا اسلام آباد میں معاہدے کی کوئی بنیاد رکھی جاسکتی ہے؟

spot_imgspot_img