سابق انگلش کرکٹر مارک بچر نے پاکستان کی جانب سے بھارت کےخلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بائیکاٹ کے فیصلے کو غیرمعمولی قرار دیدیا۔
سری لنکا میں 15 فروری کو شیڈول آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 میں بھارت کے خلاف گروپ مرحلے کے مقابلے کا پاکستان نے بائیکاٹ کردیا ہے، جس کے بعد نہ صرف دنیا بھر میں اس کا شور ہے بلکہ غیرملکی کرکٹرز بھی اس پر تبصرہ کرتے اور اسے ایک ہلا دینے والا فیصلہ کہتے نظر آرہے ہیں۔
ساتھی کرکٹرز کے ہمراہ ایک حالیہ پوڈ کاسٹ میں شرکت کے دوران بچر نے آئی سی سی ٹورنامنٹس میں پاکستان اور بھارت کے بار بار ہونے والے شیڈول میچز پر ڈالی اور ان مقابلوں کے پیچھے مالی منافع کو آشکار کیا۔
آئی سی سی کے فیصلوں پر پاکستان کے اسٹریٹجک ردعمل کے حوالے سے سابق انگلش کرکٹر مارک بچر نے کہا کہ پاکستان نے بنیادی طور پر ایک زبردست قسم کا فیصلہ کیا ہے، آئی سی سی اور بھارت حیران و پریشان ہیں۔
پاکستان گھوما اور پانسہ پلٹتے ہوئے بتایا کہ ہم بھی ٹورنامنٹ میں موجود ہیں لیکن ہم بھارت کے خلاف نہیں کھیلنے جا رہے ہیں کیونکہ آپ نے بنگلہ دیش کے ساتھ اچھا نہیں کیا ہے۔
بچر نے بھارت اور آئی سی سی کے لیے مالی اور اسٹریٹجک اثرات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ بھارت اور آئی سی سی کے لیے ایک آفت ہے، مالی طور پر اور اس فکسچر کی وجہ سے یہ ایک تباہی ہوسکتی ہے اور پاکستان کے پاس یہی واحد آپشن تھا۔
خیال رہے کہ پاکستان کی حکومت نے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت کے خلاف نہ کھیلنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد آئی سی سی اور بھارت میں واویلا مچ گیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ٹی20 ورلڈکپ پر ہم نے بڑا فیصلہ لیا ہے کہ 15 فروری کو بھارت کیخلاف میچ نہیں کھیلیں گے۔
شہبازشریف نے کہا کہ پاکستان کامؤقف ہے یہ کھیل کا میدان ہے سیاستی میدان نہیں، کھیل کے میدان میں سیاست بالکل نہیں ہونی چاہیے، ہمیں بنگلادیش کیساتھ پوری طرح کھڑا ہونا چاہیے یہ ہمارا مناسب فیصلہ ہے۔



