spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

آئی اے ای اے اور پاکستان کے درمیان جوہری تعاون بڑھانے کا معاہدہ طے

ویانا (18/9/2025) پاکستان اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے درمیان جوہری تعاون بڑھانے کا معاہدہ طے پاگیا ہے جو 2026 سے 2031 تک قابل عمل ہوگا۔

پاکستان اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے 2026 تا 2031 کیلئے پانچواں کنٹری پروگرام فریم ورک ویانا میں جاری آئی اے ای اے جنرل کانفرنس کے موقع پر دستخط کئے۔

فریم ورک پر پاکستان کی جانب سے پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر راجہ علی رضا انور اور ایٹمی توانائی ایجنسی کے محکمہ تکنیکی تعاون کے سربراہ مسٹر ہوا لیو نے دستخط کئے۔

یہ فریم ورک قومی ترجیحات کا خاکہ پیش کرتا ہے جن میں جوہری، سائنس اور ٹیکنالوجی کے زریعے براہ راست سماجی و اقتصادی ترقی میں معاونت کی جائے گی۔

یہ کئی دہائیوں پر محیط تعاون پر مبنی ہے اور پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے اور بین الاقوامی وعدوں اور پائیدار ترقی کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔

تین تکنیکی تعاون کے ادوار پر محیط اس فریم ورک میں خوراک و زراعت، انسانی صحت و غذائیت، ماحولیاتی تبدیلی و آبی وسائل کا انتظام، جوہری توانائی اور تابکاری و جوہری تحفظ شامل ہیں۔

اس موقع پر چیئرمین پی اے ای سی ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے کہا کہ فریم ورک پر دستخط پاکستان کے پر امن جوہری سائنس و ٹیکنالوجی کے عزم کا اعادہ ہے۔

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے تعاون سے پاکستان خوراک کے تحفظ، صحت کی بہتری،توانائی کے استحکام اور ماحولیاتی تحفظ کیلئے ان ٹیکنالوجیز کو بروئے کار لاتا رہے گا۔ ہم پرعزم ہیں کہ جوہری ٹیکنالوجی کے فوائد معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچائیں۔

آئی اے ای اے کے نمائندے مسٹر ہوا لیو نے پاکستان کے فعال کردار کو سراہتے ہوئے سی پی ایف کو پر امن جوہری تعاون کے زریعے پائیدار ترقی کیلئے مشترکہ وژن قرار دیا۔ 2026-2031 کا سی پی ایف پاکستان اور آئی اے ای اے کے دیرینہ شراکت داری کا مظہر ہے۔

اس پر عملدرآمد پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کو مضبوط بنائے گا اور اسے ایک زمہ دار رکن ریاست کے طور پر عالمی جوہری مشن میں مستحکم مقام فراہم کرے گا۔

spot_imgspot_img